ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جے اے اے سی کی قیادت میں احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے۔ اس تحریک کا مرکز مقامی قانون ساز اسمبلی میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستیں ہیں، جن کے خلاف مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں غیر مقامی افراد پُر کر رہے ہیں، جس سے علاقے کی سیاسی نمائندگی متاثر ہو رہی ہے۔
جون 2026 میں شروع ہونے والے ان احتجاجوں نے انتخابات کے دوران شدت اختیار کر لی۔ مظاہرین نے راولا کوٹ سے مظفرآباد تک مارچ کیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلح عناصر اور عسکریت پسند بھی احتجاج میں شامل ہو گئے تھے، جبکہ حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو معطل کر دیا۔
پاکستان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 میں سے 153 ویں نمبر پر ہے، جہاں پچھلی حکومتوں نے مقامی میڈیا پر پابندیاں عائد کیں، لیکن پہلی بار بین الاقوامی میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ نئے قوانین کے تحت کوئی بھی شخص اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ کہیں سے رپورٹ کرنے کے لیے اجازت نامہ لینے کا پابند ہے۔
الجزیرہ کی ویب سائٹ کو کشمیر میں خونریز مظاہروں کی رپورٹنگ کے بعد پاکستان میں پابندی کا سامنا ہے، جبکہ بی بی سی سمیت متعدد بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ پریس فریڈم کے حامیوں کے مطابق یہ پابندیاں حکومت کی جانب سے کشمیر کی صورتحال کی آزادانہ رپورٹنگ کو روکنے اور اپنا بیانیہ کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔