ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کولمبیا کے صدر Gustavo Petro نے کہا ہے کہ یوکرین جا کر بطور کرائے کے جنگجو لڑنے والے کولمبین شہری “بے مقصد مارے جا رہے ہیں”۔ انہوں نے اس عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کولمبیا “موت برآمد کرنے” کا ارادہ نہیں رکھتا۔ صدر پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں یوکرینی میڈیا کی اس رپورٹ پر ردعمل دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تقریباً 7 ہزار کولمبین شہری روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے ساتھ شامل ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ “7 ہزار کولمبین مرد، جو جنگی تربیت یافتہ ہیں، ایک غیر ملکی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں اور یوکرین میں بلاوجہ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔”
یوکرین نے فروری 2022 میں روس کے ساتھ تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد سے غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی میں سرگرمی دکھائی ہے، جنہیں یوکرینی حکام “رضاکار” قرار دیتے ہیں۔ کولمبیا، جہاں طویل عرصے تک اندرونی مسلح تنازعات اور انسدادِ بغاوت کی کارروائیاں جاری رہی ہیں، غیر ملکی جنگجوؤں کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں پہلے یہ تعداد 2022 سے لے کر 2025 کے آخر تک یوکرین میں لڑنے والے کولمبین شہریوں کی مجموعی تعداد کے طور پر پیش کی گئی تھی، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ حالیہ اندازوں کے مطابق اس وقت تقریباً ایک ہزار سے دو ہزار کولمبین جنگجو یوکرین میں سرگرم ہیں۔