مغربی اتحاد میں دراڑیں نمایاں، کیئر اسٹارمر کا اعتراف

Keir Starmer Keir Starmer

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹار نے اعتراف کیا ہے کہ مغربی اتحادوں کے اندر اختلافات اور کشیدگی بڑھ رہی ہے، خاص طور پر امریکی صدر Donald Trump کے ساتھ ایران جنگ کے معاملے پر حالیہ تنازعات کے بعد یہ خلیج مزید واضح ہو گئی ہے۔ اسٹارمر نے یہ بیان آرمینیا کے دارالحکومت Yerevan میں ہونے والے European Political Community کے اجلاس کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ “اتحادوں کے اندر جتنی ہم آہنگی ہونی چاہیے، اس سے زیادہ کشیدگی موجود ہے، اور یہ ضروری ہے کہ ہم بطور ممالک اس مسئلے کا مشترکہ طور پر سامنا کریں۔” اگرچہ اسٹارمر نے کشیدگی کی کسی ایک واضح وجہ کا ذکر نہیں کیا، تاہم ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ مارچ کے اوائل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان “خصوصی تعلقات” اب پہلے جیسے نہیں رہے، اور انہوں نے اسٹارمر کو Winston Churchill جیسا رہنما نہ ہونے کا بھی طعنہ دیا تھا، خاص طور پر اس وقت جب برطانیہ نے ایران کے خلاف امریکی قیادت میں جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا۔

دوسری جانب اسٹارمر نے بھی ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی تیل اور صارفین کی قیمتوں پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں۔ مزید برآں، امریکی صدر نے جنوری میں اسٹارمر کے دورہ Beijing پر بھی شدید تنقید کی، جو آٹھ سال بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا پہلا دورہ تھا، اور جس کے نتیجے میں متعدد تجارتی معاہدے طے پائے تھے۔ ٹرمپ نے اس دورے کو “انتہائی خطرناک” قرار دیا۔

کشیدگی کے باوجود اسٹارمر نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ NATO کے اندر دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو دفاع اور سلامتی کے شعبے میں زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نیٹو میں یورپ کا کردار مزید مضبوط ہو سکے، جبکہ برطانیہ امریکہ کے ساتھ دفاعی امور میں قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کے قومی مفاد میں ہے کہ وہ یورپ کے قریب تر ہو، تاہم انہوں نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یورپی یونین نے وسیع تجارتی معاہدے کے بدلے سالانہ ایک ارب پاؤنڈ مالی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے پر برطانیہ میں سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا، جہاں شیڈو وزیرِ خارجہ Priti Patel نے اسٹارمر پر الزام عائد کیا کہ وہ بریگزٹ کو کمزور کر رہے ہیں اور برطانوی عوام پر ایک اور غیر جمہوری مالی بوجھ ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔