اسلام آباد (صداۓ روس)
پنجاب میں نوجوانوں کی بے روزگاری ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے، جہاں لاکھوں افراد ملازمت سے محروم ہیں اور صوبائی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے میں کام کرنے کی عمر کے تقریباً 35 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جو نوجوانوں اور نوکری کے متلاشی افراد کے لیے سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی لیبر فورس تقریباً 4 کروڑ 94 لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جس کے باعث روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور لیبر مارکیٹ میں اصلاحات حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہو چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ منظم روزگار معاونت کے ذریعے کارکنوں کو دستیاب مواقع سے جوڑا جا سکتا ہے اور روزگار تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت نے روزگار کے فروغ کے لیے ایمپلائمنٹ فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو نوکری کے خواہشمند افراد کی رہنمائی کریں گے، روزگار کے مواقع تک رسائی کو بہتر بنائیں گے اور لیبر مارکیٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دیں گے۔ یہ اقدام بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر قابو پانے اور روزگار کے نظام کو منظم بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ مراکز پنجاب کے چھ بڑے اضلاع میں قائم کیے جائیں گے، جن میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، ملتان، رحیم یار خان اور سیالکوٹ شامل ہیں۔ ان شہروں کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ یہ بڑے معاشی اور صنعتی مراکز ہیں جہاں روزگار کی سہولیات سے بڑی تعداد میں کارکن اور آجر مستفید ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے محکمہ محنت کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ دو برسوں میں لیبر مارکیٹ کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ اس کے تحت روزگار خدمات کو بہتر بنایا جائے گا اور ملازمت کے خواہشمند افراد اور آجر کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد بے روزگاری میں کمی لانا، روزگار کے مواقع کو فروغ دینا اور صوبے کی افرادی قوت کو ایک مؤثر نظام کے تحت سہولت فراہم کرنا ہے۔