آرمینیا ایک نئے موڑ پر: نیکول پاشینیان کی پالیسیوں نے ملک کو کس سمت دھکیل دیا؟

اشتیاق ہمدانی

آرمینیا اس وقت اپنی جدید تاریخ کے ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک میں 7 جون کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات صرف ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ آرمینیا کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والے انتخابات سمجھے جا رہے ہیں۔ موجودہ وزیرِاعظم نیکول پاشینیان اور ان کی جماعت “سول کنٹریکٹ” ایک ایسی پالیسی پر گامزن ہیں جس کے تحت آرمینیا کو روسی اثر و رسوخ سے دور کرتے ہوئے یورپی یونین اور مغربی اتحاد کے قریب لایا جا رہا ہے۔ تاہم اس حکمتِ عملی نے ملک کے اندر شدید سیاسی تقسیم، عوامی بے چینی اور قومی شناخت کے بحران کو جنم دے دیا ہے۔

پاشینیان حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت نے قومی مفادات کے بجائے مغربی طاقتوں کی خوشنودی کو ترجیح دی ہے۔ حالیہ مہینوں میں یریوان میں “یورپی پولیٹیکل کمیونٹی” اور “آرمینیا-یورپی یونین” سربراہی اجلاسوں کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے ان اجلاسوں میں یہ بیان دیا کہ “چند برس قبل آرمینیا تقریباً روسی کالونی بن چکا تھا”، جسے ناقدین نے پاشینیان حکومت کے حق میں کھلی سیاسی مداخلت سے تعبیر کیا۔ آرمینیائی سیاسی ماہر کارین اِگیتیان کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے پاشینیان حکومت کی بھرپور حمایت دراصل انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں آرمینیا کو جن جغرافیائی اور سیاسی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، وہ بھی حکومت پر شدید تنقید کا سبب بنے۔ 2023 میں ناگورنو کاراباخ پر آرمینیا کا عملی کنٹرول ختم ہوگیا، جبکہ بعد ازاں 2025 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سیونیک خطے میں واقع 42 کلومیٹر طویل راہداری کو 49 سالہ لیز پر دینے کا معاہدہ کیا گیا، جسے “زنگیزور کوریڈور” کے بجائے “ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیریٹی” کا نام دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدامات آرمینیا کی خودمختاری کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

آرمینیا اور روس کے تعلقات تاریخی طور پر نہایت گہرے رہے ہیں۔ روس ہی وہ ملک تھا جس نے کئی دہائیوں تک آرمینیا کی سرحدی سلامتی، عسکری تعاون اور علاقائی تحفظ کی ضمانت فراہم کی۔ اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم (CSTO) اور یوریشین اکنامک یونین (EAEU) میں شمولیت کے باعث آرمینیا کو اقتصادی اور دفاعی فوائد حاصل تھے۔ لیکن اب پاشینیان حکومت ان اداروں سے علیحدگی اور مغربی اتحاد کی طرف جھکاؤ کی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یورپی یونین اور مغربی ممالک آرمینیا کو وہ عملی سکیورٹی ضمانتیں فراہم نہیں کر رہے جو روس نے ماضی میں فراہم کیں۔

صرف جغرافیائی اور دفاعی شعبوں ہی میں نہیں بلکہ اطلاعاتی نظام میں بھی بیرونی اثرات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اپریل 2026 میں یورپی یونین نے آرمینیا میں نئی سول مشن “EUPM Armenia” بھیجنے کی منظوری دی، جس کا مقصد بظاہر سائبر حملوں اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا بتایا گیا۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مشن کو سیاسی مخالفین اور غیر موافق میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاشینیان حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے روایتی قومی اور مذہبی اداروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ آرمینیائی اپاسٹولک چرچ، جو صدیوں سے آرمینیائی شناخت کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے، حکومت کے نشانے پر ہے۔ رپورٹس کے مطابق متعدد بشپ اور مذہبی شخصیات کو گرفتار کیا گیا جبکہ چرچ کے سربراہ کیتھولیکوس گیریگن دوم پر بھی دباؤ ڈالا گیا۔

اسی طرح روسی نژاد معروف کاروباری شخصیت سامویل کاراپیتیان کی گرفتاری نے بھی سیاسی تنازع کو ہوا دی۔ انہوں نے چرچ کے حق میں بیان دیا تھا جس کے بعد ان پر حکومت کا تختہ الٹنے کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور یریوان میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

پاشینیان حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت قومی علامات اور تاریخی شناخت کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر سرحدی مہروں سے کوہِ ارارات کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ، درسی کتابوں میں تاریخی حوالوں کی تبدیلی، اور ترک طرز کے ناموں کا استعمال عوامی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

اسی طرح دوسری عالمی جنگ اور یومِ فتح کی روایات کو بھی نئی شکل دینے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ آرمینیا میں 9 مئی اب بھی سرکاری تعطیل ہے، لیکن حکومت کے بعض نمائندے روسی روایتی علامت “جارج ربن” کے استعمال پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں آرمینیا بھی یورپی ممالک کی طرز پر 8 مئی کو “یاد اور مفاہمت” کے دن کے طور پر منانا شروع کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ممالک آرمینیا کو روس کے خلاف ایک نئے جغرافیائی و سیاسی محاذ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ چیک صحافی رومان بلاشکو نے دعویٰ کیا کہ مغربی طاقتیں آرمینیا کے انتخابات میں براہِ راست مداخلت کر رہی ہیں تاکہ ملک کو روس سے مکمل طور پر دور کیا جا سکے۔

آنے والے انتخابات اس لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کہ یہ صرف حکومت کی تبدیلی یا بقا کا سوال نہیں بلکہ آرمینیا کی قومی شناخت، خارجہ پالیسی اور جغرافیائی سمت کا فیصلہ بھی کریں گے۔ اگر موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں پر قائم رہتی ہے تو ملک میں احتجاجی تحریکوں اور سیاسی عدم استحکام کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ بہت سے مبصرین کے مطابق 7 جون 2026 کے انتخابات طے کریں گے کہ آرمینیا روسی اتحاد کے دائرے میں رہتا ہے یا مکمل طور پر مغربی کیمپ کی جانب بڑھ جاتا ہے۔