ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کینیڈا نے امریکہ کے ریاست ٹیکساس سے مویشیوں سمیت گھوڑوں کی درآمدات پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔ یہ اقدام فليش ایٹنگ پرجیوی یعنی سکرو ورم فلائی کے پھیلاؤ کے باعث اٹھایا گیا ہے، جو انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ٹیکساس میں سکرو ورم کا پہلا کیس بدھ کے روز سامنے آیا، جو امریکہ میں اس پرجیوی کی پہلی تشخیص ہے۔ یہ کیس میکسیکو سرحد سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) کے فاصلے پر پایا گیا۔ یہ وباء 2023 میں وسطی امریکہ سے شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد شمال کی طرف مسلسل پھیل رہی ہے۔ 2025 کے آخر تک میکسیکو میں ہزاروں جانوروں اور درجنوں انسانوں میں کیسز رپورٹ ہو چکے تھے۔
جمعہ کے روز اسی علاقے میں دوسرا کیس سامنے آنے کے بعد ٹیکساس حکام نے اس وباء پر ریاستی سطح پر ڈیزاسٹر کا اعلان کر دیا۔ اسی دن کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی نے ٹیکساس سے مویشیوں کی درآمدات عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گی۔
پابندی کا اطلاق ان تمام مویشیوں پر ہوگا جو کینیڈا داخل ہونے سے تین ہفتے پہلے ٹیکساس سے تعلق رکھتے تھے یا وہاں موجود رہے تھے۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اوٹاوا کے اس اقدام کو “زیادہ ردعمل” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے “سیاسی” اور سائنس پر مبنی نہ ہونے کا الزام لگایا۔ گورنر نے کہا کہ یہ کیڑا صرف زندہ جانوروں کو متاثر کرتا ہے اور انسپیکٹڈ ٹیکساس بیف پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
سکرو ورم بالغ شکل میں عام گھر کی مکھی کی طرح لگتا ہے۔ یہ زخموں اور جانوروں کے قدرتی سوراخوں میں انڈے دیتی ہے۔ ایک مکھی سینکڑوں انڈے دیتی ہے جو نکل کر پرجیوی میگٹس بن جاتے ہیں۔ یہ میگٹس ایک ہفتے تک زندہ گوشت کھاتے ہیں، جو شدید درد اور ممکنہ طور پر موت کا باعث بنتے ہیں۔ آخر کار یہ میزبان کے جسم سے نکل کر مٹی میں پپیٹ ہوتے ہیں اور چند ہفتوں بعد بالغ مکھی بن کر دوبارہ عمل دہراتے ہیں۔
سکرو ورم کو 1966 میں امریکہ، 1991 میں میکسیکو اور 2000 کی دہائی کے وسط تک وسطی امریکہ سے مکمل طور پر ختم قرار دیا جا چکا تھا۔ اسے ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر جراثیم سے پاک نر مکھیوں کو پیدا کر کے فطرت میں چھوڑا جاتا تھا۔ حالیہ برسوں میں اس کی واپسی کو موسم کی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گرمی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ان کیڑوں کے پھیلاؤ کے دائرے کو بڑھا رہی ہے۔