کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کامیاب، بھارتی وزیر تعلیم نے استعفیٰ دے دیا

Indian Protest Indian Protest

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارتی جن زی کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کامیاب ہو گیا اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا، جسے وزیر اعظم نے منظور کر لیا۔ بھارتی میڈیا نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ اور مودی کی طرف سے اس کی منظوری کی تصدیق کی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ان کے تمام مطالبات باضابطہ تحریری طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں، جس کے بعد وہ احتجاج ختم کر کے گھر چلے جائیں گے۔ تاہم پارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، البتہ تاحال حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کہنا تھا کہ اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، لیکن ہم نے کر دکھایا ہے۔

واضح رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریباً دو ماہ قبل نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج شروع کیا گیا تھا، جس میں شعبہ تعلیم کی معروف شخصیت سونام وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ مظاہرین نے وزیر تعلیم پر مبینہ طور پر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا۔

بھارت کے مختلف شہروں میں وزیر تعلیم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری تھا۔ دہلی کے علاقے جنتر منتر میں ہزاروں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جس میں پولیس کے مطابق 178 اہلکار زخمی اور 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے گزشتہ روز حکومت سے مذاکرات ہوئے تھے، جس میں پارٹی کے دو مطالبات اصولی طور پر منظور کر لیے گئے تھے۔ پہلا مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ تھا، جبکہ دوسرے میں 20 جولائی کے مظاہرے کے بعد پولیس کی طرف سے درج مقدمات کی واپسی اور امتحانی نظام میں خرابی کی وجہ سے خودکشی کرنے والے 20 سے زائد طلبہ کے لواحقین کو 1-1 کروڑ روپے ہرجانے کی ادائیگی شامل تھی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں میں متعدد بھارتی اہم شخصیات، اداکاروں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی اور ان کے مطالبات کی حمایت کی۔ پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔