بھارت پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دے گا، بھارتی وزیرِ آبی وسائل

Dam Dam

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت کے وزیرِ آبی وسائل و بلدیات C. R. Patil سی آر پاٹل نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کے پانی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات تیز کر رہا ہے اور مستقبل میں “پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دی جائے گی. بھارتی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں سی آر پاٹل نے کہا کہ وزیرِ اعظم Narendra Modi نریندر مودی کی ہدایات کے بعد پاکستان کی جانب جانے والے پانی کو روکنے کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں بھارت اپنے آبی وسائل کے استعمال کو اس انداز میں منظم کرے گا کہ پاکستان کو جانے والے پانی میں نمایاں کمی واقع ہو۔ بھارت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 1960ء میں طے پانے والا Indus Waters Treaty سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ اس معاہدے کے تحت چھ بڑے دریاؤں کے پانی کے استعمال کے اصول طے کیے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت دریائے چناب سے متعلق بعض منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں سرنگوں اور آبی ڈھانچوں کی تعمیر شامل ہے۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبے ملکی ضروریات اور توانائی کے حصول کے لیے ہیں، جبکہ پاکستان نے ان اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ایسے منصوبے کو بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔ پاکستان نے اس معاملے پر بارہا واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس کی یکطرفہ معطلی یا خلاف ورزی قابلِ قبول نہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق سرحد پار سے آنے والے پانی کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی بڑی مداخلت کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا اور اس حوالے سے قانونی، سفارتی اور دیگر تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور علاقائی استحکام سے براہِ راست جڑا ہوا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں حل کیا جائے۔