ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے پیر کو کہا کہ وہ اس وقت امریکا کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف نہیں ہے اور جب تک اس کے مفادات کو ضرورت ہوگی، اپنا دفاع کرتا رہے گا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تقریباً دو ہفتوں کے حملوں کے بعد بمباری مہم روکنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹیلی ویژن پریس کانفرنس میں کہا کہ تہران “امریکا کو جنگ اور امن کی مدت طے کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے لیے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو جنگ بندی نہیں کہا جا سکتا۔” ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں جان لیوا حملے روک دیے، جبکہ امریکی سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو کہا کہ حملوں میں وقفہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے ہے۔
حالیہ حملوں میں کمی اس وقت آئی جب ایرانی اور عمانی ڈپٹی وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر تہران میں مذاکرات کیے۔ بقائی نے کہا کہ یہ دو طرفہ مذاکرات اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری ترسیل کے انتظام کے بارے میں “مفید مذاکرات” ہیں اور “امریکا سے متعلق نہیں ہیں۔” ایرانی ترجمان نے فرانس اور برطانیہ سمیت امریکی اتحادی یورپی ممالک کو “جارح کے ساتھ ملی بھگت” کرنے پر مذمت کی اور کہا کہ برطانیہ کی نئی حکومت سے زیادہ دانشمندانہ رویہ کی توقع تھی۔