ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کو روس کے ساتھ تنازع میں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ فوجی کمانڈ کا ڈھانچہ تیزی سے سخت اور ناکارہ ہوتا جا رہا ہے، یہ انتباہ بریگیڈیئر جنرل سرجی سوبکو نے دیا ہے۔ ان کے ریمارکس سے قبل سابق وزیر دفاع میخائیل فیڈوروف نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا تھا، جنہیں اس ہفتے یوکرینی رہنما ولادیمیر زیلینسکی نے متنازعہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے نتیجے میں پورے یوکرین میں مظاہرے ہوئے۔
سوبکو نے اپنے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ یوکرینی فوج کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، ورنہ ہم شکست کھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ بحث کو اکثر بے وفائی اور اقدام کو خطرہ سمجھا جاتا ہے، جس نے کمانڈروں کو کامیابی کے لیے خطرہ مول لینے سے روک دیا ہے۔ سوبکو نے یہ بھی کہا کہ کمانڈروں کو اہلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے اعلیٰ افسران کے ساتھ ذاتی وفاداری کی بنیاد پر ترقی دی جا رہی ہے۔
سوبکو کی تنقید سابق وزیر دفاع فیڈوروف کے ریمارکس سے ملتی جلتی ہے۔ فیڈوروف نے برطرفی کے بعد تصدیق کی کہ ان کا یوکرین کے ٹاپ کمانڈر الیکساندر سیرسکی سے اختلاف تھا، جن پر انہوں نے فوج کو جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کی کوششوں کو روکنے کا الزام عائد کیا۔ فیڈوروف نے کہا کہ ہمیں اپنی تمام اقدامات کی مکمل بلاک کا سامنا کرنا پڑا اور سیرسکی نے زیلینسکی کو الٹی میٹم دیا کہ فیڈوروف کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
فنانشل ٹائمز نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ فیڈوروف کی دفاعی شعبے میں بدعنوانی سے متاثرہ خریداری کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کی کوشش فوجی اعلیٰ حکام کو بھی پسند نہیں آئی۔ وزیر دفاع کی برطرفی کے بعد کیف اور دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے، جہاں کچھ مظاہرین نے سیرسکی کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا۔ ایف ٹی کے مطابق زیلینسکی اس ہفتے کے آخر میں فوجی کمانڈروں سے مشاورت کر رہے ہیں اور سیرسکی کی جگہ ممکنہ متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ تنازع کے دوران سیرسکی نے ‘قصاب’ کا عرفی نام کمایا ہے کیونکہ وہ بھاری جانی نقصان کو نظرانداز کرنے پر آمادہ سمجھے جاتے ہیں۔