ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کی اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کے لیے امداد اور ویزا معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب اسلام آباد نے ایک ایسے مجرم کو واپس لینے سے انکار کر دیا جو بچوں کے متعدد جنسی جرائم کا مرتکب تھا۔ پاکستانی نژاد شبیر احمد 2000 کی دہائی کے دوران روچڈیل گینگ کا سرکردہ رہنما تھا، جس نے برطانوی لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا۔ وہ اس ماہ کے شروع میں 30 بچوں کی عصمت دری کے مقدمات میں 22 سال کی سزا کے 14 سال مکمل کرنے کے بعد رہا ہوا تھا۔
اگرچہ احمد کو 2016 میں برطانوی شہریت سے محروم کر دیا گیا تھا، برطانوی حکومت اسے ملک بدر نہیں کر سکی کیونکہ امیگریشن ایکٹ 1971 بعض دولت مشترکہ کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو 1973 سے قبل برطانیہ آئے اور کم از کم پانچ سال وہاں مقیم رہے۔
برطانوی ہوم سیکرٹری شبینہ محمود نے “غیر معمولی سنگین” مقدمات میں قانون میں ترمیم کا عہد کیا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے احمد کو واپس لینے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل اپنے پاکستانی پاسپورٹ کو تباہ کر کے اپنی پاکستانی شہریت ترک کر دی تھی، جبکہ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی شہریت باضابطہ طور پر ختم نہیں ہوئی۔
لیبر حکومت نے اصرار کیا کہ وہ احمد کو ملک بدر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن جمعرات کو یہ انکشاف ہوا کہ دفتر خارجہ نے پاکستان کے لیے اگلے تین سالوں میں 153 ملین پاؤنڈ (206 ملین ڈالر) کی ترقیاتی امداد کی منظوری دی ہے، جس نے حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ کلامی کو جنم دیا۔
ریفارم یوکے کے ڈپٹی لیڈر نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ پاکستان کو کوئی غیر ملکی امداد نہیں، کوئی ویزا نہیں، جب تک کہ وہ عصمت دری کرنے والے احمد کو واپس نہیں لیتے۔ پارٹی کے ہوم افیئرز ترجمان ضیا یوسف نے اس فنڈنگ کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ برطانوی سیاسی اسٹیبلشمنٹ برطانوی عوام کی پرواہ نہیں کرتی۔
برطانوی شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے اس مطالبے کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے آنے والے تمام مجرموں کو واپس بھیجا جانا چاہیے اور پاکستانی شہریوں کے لیے تمام امداد اور نئے ویزا روک دیے جائیں۔ تاہم برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ امداد پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنانے میں مدد دے گی، جس سے برطانیہ کو سیکورٹی اور امیگریشن کے خطرات کم ہوں گے۔ اسلام آباد نے موقف اختیار کیا ہے کہ احمد کی ذمہ داری برطانیہ پر ہے، جہاں وہ پلا بڑھا اور خراب ہوا۔