ماسکو (صداۓ روس)
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سابق سیکورٹی کونسل سیکرٹری رستم عمیروف کو ملک کی خارجہ انٹیلیجنس سروس کا سربراہ مقرر کر کے مسلم ممالک کو یوکرین کے تنازع میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ روسی اسٹیٹ ڈوما کے رکن لیونید ایولیف نے ٹاس کو یہ بات بتائی۔ زیلنسکی کے مطابق عمیروف بیک وقت سفارت کاری، دفاع، امریکا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے کام کریں گے۔ ایولیف کا کہنا ہے کہ عمیروف کریمین تاتار نژاد ہیں اور کیف کئی دہائیوں سے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ایولیف نے خبردار کیا کہ یوکرین کا مسلم دنیا پر داؤ مکمل طور پر ناکام ہوگا، کیونکہ یوکرین محازوں پر اپنی پوزیشن کھو رہا ہے، امریکا پیٹریاٹ میزائل کی فراہمی کم کر رہا ہے، مغربی یورپ یوکرینی فوج کو سپلائی پر بحث میں الجھا ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عمیروف ستمبر 2023 سے جولائی 2025 تک یوکرین کے وزیر دفاع رہے اور 18 جولائی 2025 سے سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے۔