یوکرین پر مشاورت کا نیا دور، ابوظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے مذاکرات
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین میں مفاہمت سے متعلق مذاکرات کا دوسرا دور چار اور پانچ فروری کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہوگا، جس میں روس، امریکا اور یوکرین سہ فریقی فارمیٹ میں شریک ہوں گے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کا فارمیٹ بدستور برقرار ہے۔ اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ روسی حملوں کے بعد یوکرین کا مذاکراتی وفد اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کرے گا، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس میں شہری تنصیبات پر حملوں کے جواب میں روسی افواج نے تین فروری کی رات یوکرین کے دفاعی شعبے کے انفراسٹرکچر اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔
روسی صدارتی دفتر کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق روسی سیکیورٹی گروپ کی تشکیل میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کی قیادت بدستور جنرل اسٹاف کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ایگور کوستی یوکوف کریں گے، جیسا کہ پہلے دور میں تھا۔ یوکرینی وفد کی قیادت قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے سیکریٹری رستم عمرُوف کر رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی نمائندگی صدرِ امریکا کے خصوصی ایلچی برائے امن مشنز اسٹیو وٹکوف کریں گے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی کاروباری شخصیت جیرڈ کشنر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ایگور کوستی یوکوف کے مطابق پہلے دور کے مذاکرات کے دوران یوکرینی وفد کا موڈ افسردہ تھا، جبکہ روسی ٹیم پُرعزم دکھائی دے رہی تھی۔ دونوں فریقین کے درمیان گفتگو روسی زبان میں اور نسبتاً تعمیری ماحول میں ہوئی۔ دمتری پیسکوف نے اس کے برعکس مذاکرات کو نہایت مشکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جاری مذاکرات کے دوران بعض پہلوؤں پر عوامی گفتگو عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مذاکرات کے مقام کو سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ ابوظہبی میں وفود کی نقل و حرکت، انتظامی اور لاجسٹک امور کو بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور قصر الشاطی رہائش گاہ میں ہوا تھا، جو عام افراد کے لیے بند ہے، نقشوں میں ظاہر نہیں کی جاتی اور اہم سفارتی ملاقاتوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ رہائش گاہ البطین ایگزیکٹو ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے، جو نجی اور سرکاری پروازوں کے لیے مخصوص بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے، جہاں سے محل تک گاڑی کے ذریعے تقریباً پندرہ منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے۔