روس سے روابط پر آسٹریا کی سابق وزیرِ خارجہ کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آسٹریا کی سابق وزیرِ خارجہ کارن نائسِل کی روس سے وابستگی کے معاملے پر ایک بار پھر سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ یورپی یونین نواز لبرل جماعت نیو آسٹریا اینڈ لبرل فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ روس کے لیے “کام کرنے” پر کارن نائسِل کی آسٹرین شہریت منسوخ کی جائے۔ نائسِل دو ہزار تیئیس میں روس منتقل ہو گئی تھیں اور وہ یورپی یونین پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہیں۔ نیو آسٹریا اینڈ لبرل فورم کا الزام ہے کہ کارن نائسِل ماسکو کے مفادات کے تحت سرگرم ہو کر آسٹریا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جماعت کے اراکین نے روس میں ایک تھنک ٹینک کی سربراہی اور روسی میڈیا چینل پر بطور کالم نگار اور تجزیہ کار پیش ہونے پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں نیو آسٹریا اینڈ لبرل فورم کے سربراہ یانیِک شیٹی نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ روسی صدر کی خدمت میں کام کرتے ہوئے نائسِل یہ تاثر دے رہی ہیں کہ آسٹریا جہنم کا پیش خیمہ جبکہ صدر پوتن کا روس جنت ہے۔ ان کے بقول جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں رضاکارانہ اور بے لوث ہیں، وہ خیالی کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں۔
آسٹریا کے شہریت کے قانون کے تحت اگر کوئی شہری کسی غیر ملکی ریاست کی خدمت کرتے ہوئے ریاست کے مفادات یا ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے تو اس کی شہریت واپس لی جا سکتی ہے۔ تاہم سابق وزیرِ خارجہ الیگزینڈر شالن برگ اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ کارن نائسِل کے معاملے میں ایسا کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں۔ وہ ماضی میں بھی ایسے مطالبات کو مسترد کر چکے ہیں۔
کارن نائسِل کا مؤقف ہے کہ انہیں بے ریاست نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ ان کے پاس کسی اور ملک کی شہریت موجود نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق شہریت کی منسوخی کا طریقۂ کار عموماً جاسوسی جیسے سنگین الزامات تک محدود ہوتا ہے، جو اس معاملے میں ثابت کرنا نہایت مشکل ہوگا۔
روس میں کارن نائسِل ایک جغرافیائی و سیاسی تحقیقی ادارے کی سربراہی کر رہی ہیں اور وہ یورپی یونین کی امریکی توانائی پر انحصار کی پالیسی پر بھی تنقید کرتی رہی ہیں۔ حالیہ عرصے میں یوٹیوب پروگراموں میں آسٹریا پر تنقیدی بیانات دینے کے بعد ملک کے اندر ان کے خلاف سیاسی ردِعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔