روس کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کی جائے،بالٹک ریاستوں کا مطالبہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
چار برس تک ماسکو سے رابطے سے انکار کے بعد بالٹک ریاستوں لیٹویا اور ایسٹونیا کی قیادت نے روس کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یورونیوز کے مطابق لیٹویا کی وزیرِاعظم ایویکا سیلینا اور ایسٹونیا کے صدر الار کاریس نے دبئی میں ہونے والے ایک بین الاقوامی اجلاس کے موقع پر روس کے ساتھ سفارتی روابط بحال کرنے کے لیے یورپی یونین کی جانب سے خصوصی ایلچی مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ لیٹوین وزیرِاعظم ایویکا سیلینا نے یورونیوز سے گفتگو میں کہا کہ جب خود یوکرینی فریق مذاکرات کی میز پر آ چکا ہے تو یورپی ممالک کا مذاکرات سے باہر رہنا کسی طور مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو بھی اس عمل میں شامل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ ایسٹونیا کے صدر الار کاریس نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اس معاملے میں تاخیر کا شکار رہی ہے۔ ان کے مطابق بہتر ہوتا کہ یورپی یونین خود مذاکراتی عمل کا آغاز کرتی، بجائے اس کے کہ یہ کردار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ادا کیا۔
تاہم روس سے مذاکرات کی اس تجویز پر یورپ کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اس خیال کی حمایت کی ہے، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن گزشتہ تقریباً ایک سال سے ماسکو کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں مصروف ہے، جبکہ یورپی یونین کو اس عمل سے بڑی حد تک الگ رکھا گیا ہے۔ اس دوران یورپی یونین نے روس پر پابندیوں، اور یوکرین کی سفارتی، عسکری اور مالی حمایت پر انحصار کیے رکھا۔ اس سے قبل بالٹک ممالک سمیت کئی یورپی ریاستیں روس کے ساتھ کسی بھی قسم کی دوبارہ شمولیت کی سخت مخالف رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے درمیان 23 اور 24 جنوری کو ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات فروری 2022 کے بعد پہلے براہِ راست رابطے تھے۔ اگرچہ ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا گیا، تاہم کسی ٹھوس معاہدے کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔