ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں واقع بھیتر کانیکا نیشنل پارک کو “بھارت کا ایمیزون” کہا جاتا ہے۔ یہ پارک اپنے وسیع مینگروو جنگلات، گھنے آبی راستوں اور کھارے پانی کے مگرمچھوں کی سب سے بڑی آبادی کے لیے مشہور ہے۔
1975 میں 672 مربع کلومیٹر رقبے پر بھیتر کانیکا وائلڈ لائف سینکچری قائم کی گئی، جس کا 145 مربع کلومیٹر رقبہ ستمبر 1998 میں بھیتر کانیکا نیشنل پارک قرار دیا گیا۔ مشرق میں گاہیرمتھا میرین سینکچری اس کی حدود سے ملتی ہے، جو 1997 میں قائم کی گئی تھی۔ 2002 میں بھیتر کانیکا مینگرووز کو رامسر سائٹ (بین الاقوامی اہمیت کی گیلی زمین) کا درجہ دیا گیا ۔
پارک میں 55 اقسام کے مینگروو پائے جاتے ہیں، جو بھارت میں ریکارڈ شدہ 58 اقسام میں سے ہیں۔ یہاں کھارے پانی کے مگرمچھوں (سالٹ واٹر کروکوڈائل) کی بھارت میں سب سے بڑی آبادی موجود ہے۔ جنوری 2026 کی مردم شماری کے مطابق پارک میں 1,858 کھارے پانی کے مگرمچھ ہیں ۔
پارک میں آٹھ اقسام کے کنگ فشر پرندے، ہرن، جنگلی سور، ازگر، واٹر مانیٹر چھپکلی اور مختلف اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ گاہیرمتھا بیچ دنیا میں اولیو رڈلے سمندری کچھوؤں کی سب سے بڑی گھوںسلا سازی کی جگہ سمجھا جاتا ہے ۔
حالیہ مہینوں میں پارک میں کھارے پانی کے مگرمچھوں کی غیر معمولی اموات نے ماہرین اور تحفظ کارکنوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اکتوبر 2026 میں براہمنی ندی سے سات فٹ لمبی مادہ مگرمچھ کی لاش ملی، جو ایک ماہ کے اندر تیسری موت تھی۔ چھ سالوں میں مشکوک غیر معمولی اموات کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 14 سالوں میں پارک اور گردونواح میں 42 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں ۔
ماہرین کا خیال ہے کہ غیر قانونی ماہی گیری کے جال مگرمچھوں کی اموات کا سبب بن رہے ہیں۔ پارک کے آبی راستوں میں ماہی گیری ممنوع ہے، تاہم بعض ماہی گیر غیر قانونی طور پر جال بچھاتے ہیں، جن میں پھنس کر مگرمچھ سانس نہ لے پانے کے باعث دم توڑ دیتے ہیں ۔
پارک میں ایک نایاب سفید مگرمچھ “شویتا” سات سال سے الگ تھلگ رکھی گئی ہے، جس پر ماحولیاتی ماہرین اور مقامی باشندوں نے رہائی کے مطالبے شروع کر دیے ہیں۔ شویتا کو اس کے ہم جنس مگرمچھوں کے ساتھ رکھا جائے یا ندی میں چھوڑا جائے، اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ پارک میں ایک اور سفید مگرمچھ “گوری” 51 سال سے قید ہے، جس نے افزائش نسل میں ناکامی کا سامنا کیا ۔
پارک مئی سے جولائی تک مگرمچھوں کی افزائش نسل کے موسم میں بند رہتا ہے اور یکم اگست سے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھل جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے سیلفی پوائنٹس، بوٹ لائبریری، مینگروو نرسری، کیفے اور 600 میٹر طویل لکڑی کا کینوپی پل تعمیر کیے گئے ہیں ۔ پارک تک رسائی بھوبنیشور سے تقریباً 172 کلومیٹر سڑک کے سفر اور پھر کشتی کے ذریعے ہوتی ہے۔ قریب ترین ریلوے اسٹیشن بھدرک ہے ۔