ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
خلیجی سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا ایران کا غیر متوقع دورہ حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی حاصل کرنے کے مقصد سے تھا، جس کے تحت سعودی عرب تہران کے ذریعے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کو ایک ارب ڈالر منتقل کرے گا۔ ایک ذریعے کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان یہ رقم خود اپنے ساتھ اس ہرکیولس فوجی ٹرانسپورٹ طیارے میں لے کر آئے جس سے وہ ایران پہنچے تھے۔
یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی زیرِ قیادت اتحاد کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی وزیر دفاع کا ایران کا یہ دورہ علاقائی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے سعودی یا ایرانی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے.