چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کی ماسکو میں ایرانی سفارت خانے پر حاضری، شہدا کو خراج تحسین پیش کیا
ماسکو (صداۓ روس)
روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ایک خود ساختہ تعزیتی یادگاری مقام قائم ہو گیا ہے جہاں روسی شہریوں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد پہنچ کر ایران میں حالیہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے متاثرین کے لیے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کر رہی ہے۔ لوگ سفارت خانے کے باہر پھولوں کے گلدستے، موم بتیاں، کھلونے اور دیگر اشیاء رکھ کر ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چیف ایڈیٹر صداۓ روس اشتیاق ہمدانی نے بتایا کہ ایران پر حالیہ حملوں کے بعد روسی شہریوں کی بڑی تعداد سفارت خانے کے سامنے جمع ہو رہی ہے۔ شہری مرکزی دروازے کے قریب پھول، موم بتیاں اور تعزیتی اشیاء رکھ کر ایرانی عوام کے رنج و غم میں شریک ہو رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ ایک غیر رسمی تعزیتی یادگاری مقام کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ رک کر دعائیں مانگتے اور متاثرین کے لیے نیک تمنائیں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ کئی افراد نے تعزیتی پیغامات بھی لکھ کر چھوڑے ہیں۔
صداۓ روس سے گفتگو کرتے ہوئے وہاں موجود شہریوں نے ایرانی عوام کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور متاثرین کو خراج تحسین پیش کیا۔ بعض شہریوں نے امریکی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکہ نے ماضی میں بھی متعدد ممالک کو جنگ اور تباہی کا سامنا کروایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی یہ کوششیں ایران میں کامیاب نہیں ہوں گی اور ایرانی عوام اس مشکل وقت میں ہمت اور استقلال کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ شہریوں نے ایرانی عوام کے لیے دعا کی کہ وہ اس آزمائش کے دور میں ثابت قدم رہیں اور جلد امن و استحکام بحال ہو جائے۔ اس موقع پر ایرانی سفارت خانے کی عمارت پر قومی پرچم سوگ کے اظہار کے طور پر سرنگوں کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے سانحات یا جنگی حالات کے بعد سفارت خانوں کے باہر عوامی یادگاری مقامات قائم ہونا ایک عام روایت ہے جہاں لوگ متاثرین اور متعلقہ ملک کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ماسکو میں بھی شہریوں کی جانب سے یہی جذبہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔