ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی ہائی ریپریزنٹیٹو کاجا کالاس نے کہا ہے کہ امریکہ یورپی حکومتوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ انفرادی طور پر یورپی ممالک کمزور ہیں۔ فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کاجا کالاس نے کہا کہ “سب کے لیے یہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ امریکہ نے واضح طور پر یورپ کو تقسیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ یورپی یونین کو پسند نہیں کرتے۔” انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کا یہ رویہ یورپی یونین کے “دشمنوں” کی طرف سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔
کالاس نے تسلیم کیا کہ برسلز اور واشنگٹن کے درمیان “بہت پیچیدہ تعلقات” ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے ممالک اس وقت امریکی پالیسی کا جواب دینے کے طریقے پر متفق نہیں ہیں۔ ان کے بقول بلاک کے تمام ارکان کو متحد ہو کر “امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ” سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کے پاس “ٹرمپ کو منانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے” دونوں کے لیے گنجائش موجود ہے۔ کاجا کالاس کے مطابق یورپ کو وہ چیزیں خریدنی چاہییں جو وہ خود پیدا نہیں کر سکتا، جبکہ ساتھ ہی اپنی دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے تاکہ “تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ رکھے جائیں۔”
دوسری جانب، 5 دسمبر کو شائع ہونے والی امریکہ کی تازہ قومی سلامتی حکمت عملی میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگلے 20 سالوں میں یورپ ایک بنیادی تبدیلی سے گزرے گا اور یورپی یونین کی قیادت اور دیگر سپرانیشنل اداروں کی “تباہ کن پالیسیوں” کی وجہ سے تہذیب کے طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ اس تناظر میں امریکی انتظامیہ نے شک کا اظہار کیا ہے کہ کچھ یورپی ممالک کے پاس معاشی اور فوجی صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے واشنگٹن کے قابل اعتماد اتحادی بنے رہنے کی اہلیت نہیں ہوگی۔