سابق جاپانی وزیرِاعظم شِنزو آبے کے قاتل کو عمر قید کی سزا

Abe’s killer Abe’s killer

سابق جاپانی وزیرِاعظم شِنزو آبے کے قاتل کو عمر قید کی سزا

ماسکو (صداۓ روس)
جاپان کے سابق وزیرِاعظم شِنزو آبے کو قتل کرنے والے شخص کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز مغربی جاپان کے شہر نارا کی عدالت میں سنایا گیا، جہاں جج شِنچی تاناکا نے 45 سالہ تتسویہ یاماگامی کے خلاف فیصلہ سنایا۔ یاماگامی نے سال 2022 میں دن دہاڑے شِنزو آبے کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف جاپان بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، کیونکہ جاپان میں اسلحے کے ذریعے تشدد کے واقعات نہایت کم ہوتے ہیں۔ جاپانی قانون کے تحت عمر قید کی سزا میں پیرول (مشروط رہائی) کا امکان موجود ہوتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ تر قیدی جیل ہی میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ استغاثہ نے عدالت سے عمر قید کی سزا دینے کی استدعا کی تھی اور قتل کو “جاپان کی جنگ کے بعد کی تاریخ میں بے مثال واقعہ” قرار دیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق یاماگامی نے آبے کو قتل کرنے کا فیصلہ یونیفیکیشن چرچ کے خلاف نفرت اور غصے کی بنیاد پر کیا۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا خیال تھا کہ اگر وہ آبے جیسے بااثر سیاست دان کو قتل کرے گا تو چرچ کے خلاف عوامی توجہ اور تنقید میں اضافہ ہوگا۔ دفاعی وکلا نے زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا کی درخواست کی تھی، ان کا مؤقف تھا کہ ملزم کے خاندان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اس کی والدہ کی جانب سے چرچ کو اپنی تمام زندگی کی جمع پونجی عطیہ کرنے کے بعد۔

Advertisement

سماعت کے روز نارا کی عدالت کے باہر عوام کی بڑی تعداد ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑی نظر آئی، جو اس مقدمے میں غیر معمولی عوامی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس قتل کے بعد جاپان کی حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور یونیفیکیشن چرچ کے درمیان قریبی تعلقات بھی منظرِ عام پر آئے، جس کے بعد پارٹی کو عوامی حمایت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ شِنزو آبے اگرچہ اندرونِ ملک ایک متنازع شخصیت تھے، تاہم عالمی سطح پر وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ 2016 میں ٹرمپ کے انتخاب کے بعد ان سے ملاقات کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما تھے۔ آبے دو مختلف ادوار میں مجموعی طور پر 3,188 دن جاپان کے وزیرِاعظم رہے اور ستمبر 2020 میں صحت کے مسائل کے باعث مستعفی ہو گئے تھے۔