فن لینڈ کا اطالوی وزیراعظم کے روس سے مذاکرات کے مطالبے کی حمایت کا اعلان
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فن لینڈ کی قوم پرست جماعت فریڈم الائنس کے رکن آرمینڈو میما نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے روس کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقف نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آرمینڈو میما نے 9 جنوری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ روس اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بالکل درست وقت پر یہ بات کہی ہے کہ یورپ کو روس کے ساتھ دوبارہ مکالمے کی طرف لوٹنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جارجیا میلونی امن اور سفارتکاری کے لیے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ آرمینڈو میما کے مطابق مغرب کو روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے ایسی قیادت کی اشد ضرورت ہے، اور اس عمل میں اطالوی وزیر اعظم کو مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔ فن لینڈ کے سیاست دان نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی موجودہ سربراہ کی جانب سے یورپی ممالک کو دوبارہ مسلح ہونے کے بیان کو “حیران کن” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
واضح رہے کہ 9 جنوری کو اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ایک خطاب میں زور دیا تھا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو روس کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر اٹلی کے نائب وزیر اعظم میتیو سالوینی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بھی ان کے ہم خیال ہیں۔ اطالوی وزیر اعظم کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے روسی سینیٹر الیکسی پشکوف نے دو اہم سوالات اٹھائے۔ پہلا سوال مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک سے متعلق تھا، جبکہ دوسرا سوال نیٹو اور یورپی اتحاد کی جانب سے کیف کے ان مطالبات پر غیر مشروط حمایت سے متعلق تھا، جو ان کے بقول بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی بنیاد نہیں بن سکتے۔