اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ جزیرے پر 34 سال بعد بچے کی پیدائش

New born baby New born baby

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ جزیرے نارتھ رونالڈسے پر 34 سال بعد ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے، جسے جزیرے کی مختصر آبادی کے لیے ایک غیر معمولی اور خوش آئند واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایلس ٹریل فورڈ کے ہاں 15 ستمبر کو بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام ڈنکن وائلڈر تھورسٹین ٹریل سواریز فورڈ رکھا گیا ہے۔ یہ 34 برس بعد جزیرے پر ہونے والی پہلی پیدائش ہے۔ نارتھ رونالڈسے جزائر آرکنی کا سب سے شمالی جزیرہ ہے، جس کی لمبائی تقریباً تین میل اور چوڑائی دو میل ہے۔

ایلس ٹریل فورڈ اپنے منگیتر خورخے سواریز اور خاندان کے ساتھ کوسٹا ریکا اور نارتھ رونالڈسے کے درمیان وقت گزارتی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی منصوبہ تھا کہ بچے کی پیدائش کوسٹا ریکا میں ہوگی اور خاندان نے جزیرے پہنچتے وقت واپسی کی پروازیں بھی بک کر رکھی تھیں، تاہم جزیرے پہنچنے کے بعد پیدائش کا منصوبہ تبدیل ہوگیا۔

ایلس ٹریل فورڈ نے بتایا کہ انہوں نے جزیرے پر بچے کو جنم دینے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ یہ ان کے بیٹے کے لیے انتہائی خاص، پُرسکون اور معاون ماحول ہوگا۔ ان کے خاندان نے 1727 میں جزیرے پر زمین خریدی تھی اور وہ بچپن سے ہر سال یہاں آتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جزیرے سے ان کا تعلق انہیں ہر سال یہاں واپس لاتا ہے اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اس جزیرے نے ان کی پرورش میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ بچے کی پیدائش ہالینڈ ہاؤس میں ہوئی، جسے ان کے آباؤ اجداد نے تعمیر کیا تھا۔

2024 کے اسکاٹش حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نارتھ رونالڈسے کی آبادی 72 افراد تھی، تاہم ایلس ٹریل فورڈ کے مطابق اب جزیرے پر 51 افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی پیدائش پر پوری آبادی انتہائی خوش ہے اور یہاں رہنے والے افراد ایک دوسرے کو وسیع خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

ایلس ٹریل فورڈ کے مطابق جزیرے پر طویل عرصے تک کسی بچے کی پیدائش نہ ہونے کی ایک وجہ طبی سہولیات کی کمی بھی ہوسکتی ہے۔ جزیرے پر نہ کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ اسپتال، جبکہ صرف ایک مستقل نرس موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نارتھ رونالڈسے سے آرکنی کے مرکزی جزیرے تک کشتی کے ذریعے پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے 40 منٹ لگتے ہیں۔ ہنگامی صورت حال میں ساحلی محافظوں کا ہیلی کاپٹر مدد کے لیے پہنچ سکتا ہے، جبکہ معمول کی صورت میں مریض کو آرکنی کے مرکزی شہر کرک وال منتقل ہونا پڑتا ہے.