فرانس کا یورپی یونین سے روس کے ساتھ براہِ راست رابطے کا مطالبہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو روس کے ساتھ براہِ راست رابطے کا ایک مؤثر چینل قائم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد گزشتہ چار برسوں سے یورپی یونین نے ماسکو سے بات چیت سے گریز کیا ہوا ہے، جو اب یورپ کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک میں اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ یوکرین تنازع کے حل میں ان کا کردار کمزور ہو رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ماہ سے کیف اور ماسکو دونوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی بھی یورپی یونین سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ روس کے لیے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا جائے تاکہ یورپی یونین مذاکرات کی میز پر اپنی موجودگی یقینی بنا سکے۔
اتوار کو شائع ہونے والے اخبار لیبراسیون کو انٹرویو دیتے ہوئے ژاں نویل بارو نے کہا کہ فرانس نے اصولی طور پر کبھی بھی روس سے بات چیت کو رد نہیں کیا، بشرطیکہ یہ مذاکرات شفاف ہوں، یوکرین اور یورپی یونین کے ساتھ ہم آہنگی میں ہوں اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ ان کے مطابق یورپی ممالک، جو اس وقت یوکرین کے سب سے بڑے مالی اور فوجی حامی ہیں، انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہوگا اور کسی اور پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ دسمبر میں صدر میکرون نے بھی یورپ پر زور دیا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا آغاز کرے، بصورت دیگر خدشہ ہے کہ فیصلے یورپی شمولیت کے بغیر ہو سکتے ہیں۔ اس پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ اگر باہمی سیاسی ارادہ موجود ہو تو صدر پوتن بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم کسی بھی مکالمے کا مقصد واضح ہونا چاہیے اور اسے محض لیکچر دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ روس اور فرانس کے صدور کے درمیان آخری ٹیلی فونک رابطہ جولائی میں ہوا تھا، جو 2022 کے اوائل کے بعد پہلا براہِ راست رابطہ تھا۔ دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے روس کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کے پاس ماسکو کو پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں، اس لیے دباؤ کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔ ادھر روسی حکام مسلسل یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ وہ نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ مغرب روس کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرے اور یوکرین کے ذریعے اسٹریٹجک شکست پہنچانے کا ہدف ترک کرے۔