ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب میں سعودی آرامکو کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام چینل پر لکھا کہ یمنی مسلح افواج نے، جس سے مراد حوثی دستے ہیں، بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز استعمال کرتے ہوئے چھ فوجی کارروائیاں کیں۔
سریع کے مطابق حملوں کا ہدف مغربی سعودی عرب کے شہر یانبو میں سعودی آرامکو کی تنصیبات اور ملک کے مشرق میں شیبہ آئل فیلڈ تھے، جہاں حملوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ابہا ایئرپورٹ اور مملکت کے جنوب میں خمیس مشیط کے فضائی اڈے کے علاوہ ایک بحری کیمپ اور راڈار اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔
سریع کا کہنا ہے کہ ریاض ایئرپورٹ پر حملہ تین مرحلوں میں کیا گیا اور اس نے درست اور براہ راست نشانے لگائے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد سعودی فضائی اور میزائل حملوں کا جواب ہیں۔ یانبو میں آرامکو تنصیبات پر دو مرحلوں میں حملہ کیا گیا، جس سے بڑی آگ لگنے کا دعویٰ ہے۔ ابہا اور خمیس مشیط کے اڈے پر حملوں سے ابہا میں فضائی ٹریفک متاثر ہونے اور اڈے کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ سریع نے کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید وسیع اور سخت حملوں کی دھمکی دی۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے ایک دن قبل بتایا تھا کہ اس کے فضائی دفاع نے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی حکام نے آرامکو تنصیبات اور فضائی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کی فوری تصدیق نہیں کی۔ حالیہ ہفتوں میں حوثی بحیرہ احمر میں جہازوں، تیل کی تنصیبات اور ریاض ایئرپورٹ سمیت سعودی اہداف پر بار بار حملے کر چکے ہیں، جہاں گزشتہ ہفتے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پیر کو سعودی حکام نے ریاض اور قریبی علاقے خرج کے رہائشیوں کو فضائی خطرے کی وارننگ پر مبنی فون الرٹ بھی بھیجے تھے۔