ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ 2WAY پلیٹ فارم کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے اور ان کے خیال میں اسے رکن ہونا بھی نہیں چاہیے۔
وینس نے یوکرین کو واشنگٹن کا اتحادی قرار دینے سے بھی گریز کیا اور کہا کہ اسے روسی تیل صاف کرنے کے کارخانوں پر حملے بند کر دینے چاہییں۔ جب میزبان نے پوچھا کہ کیا اتحادیوں کے تعلقات شراکت داروں سے زیادہ قریبی ہوتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق امریکا کا یوکرین کے ساتھ کوئی باضابطہ اتحاد نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق وینس نے کہا کہ کیف بعض پہلوؤں سے شراکت دار ہے، تاہم دونوں ملکوں کے مفادات ہر معاملے میں ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ انہوں نے اس کی مثال روسی تیل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے دی اور کہا کہ کیا وہ یہ درست سمجھتے ہیں کہ یوکرین روسی ڈیزل پیداواری تنصیبات کو نشانہ بنا کر امریکیوں کے لیے توانائی کی قیمتیں بڑھائے، تو ان کا جواب نفی میں ہے۔ وینس کے مطابق واشنگٹن مختلف شعبوں میں یوکرین سے تعاون جاری رکھے گا، لیکن کیف کو روس کے توانائی ڈھانچے پر حملے روک دینے چاہییں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار روسی ریفائنریوں پر حملوں کے معاملے میں ولادیمیر زیلنسکی کو سخت تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کیف عالمی ڈیزل منڈیوں کو، بشمول امریکا میں، شدید نقصان پہنچا رہا ہے، مگر زیلنسکی کو اس کی کوئی پروا نہیں۔