فلائی دبئی حملہ: بھارتی کپتان نے طیارہ بچا لیا

Fly Dubai Fly Dubai

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے پُرتشدد واقعے کے بعد حملہ آور پائلٹ کی شناخت اور مبینہ حملے کے محرک سے متعلق سوالات بدستور موجود ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملے کے طور پر بھی تفتیش کر رہے ہیں۔ فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں 174 مسافر سوار تھے۔ دورانِ پرواز ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد طیارہ تیزی سے بلندی کھونے لگا۔ پرواز کے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ مختصر مدت میں تقریباً 14 ہزار فٹ سے زائد نیچے آیا۔ حملے کا نشانہ بننے والے طیارے کے کپتان کی شناخت بھارتی شہری کیپٹن سمت مچھر کے طور پر ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت متعدد حکام نے ان کی کارروائی اور مسافروں کی جانب سے طیارے کو بچانے کی کوششوں کو سراہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافر اور عملے کے دیگر افراد اندر داخل ہوئے اور مبینہ حملہ آور کو قابو کیا۔ اضافی پائلٹوں کی موجودگی میں طیارے کو قابو میں لایا گیا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتار لیا گیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور کو سعودی عرب میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بعض اسرائیلی ذرائع نے اسے عمانی شہری قرار دیا ہے، تاہم اس کی شناخت اور واقعے کے محرک کے بارے میں مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ واقعے کے بعد اسرائیلی حکام نے اسے ممکنہ دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم آزادانہ طور پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ حملہ آور کا مقصد کیا تھا یا آیا واقعہ کسی وسیع تر دہشت گرد منصوبے کا حصہ تھا۔ فلائی دبئی نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پرواز کے سعودی عرب پہنچنے کے بعد تمام مسافروں کو متبادل طیارے کے ذریعے اسرائیل پہنچایا گیا، جبکہ زخمی کپتان کو طبی امداد کے لیے تبوک کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ بھارتی سفارتخانے کے مطابق سمت مچھر کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔