ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ سوویت یونین کا ٹوٹنا کروڑوں افراد کے لیے ایک حقیقی المیہ تھا، جو اچانک ایک اجنبی حقیقت میں زندگی گزارتے ہوئے جاگے۔ صدر پوتن نے والدائی انٹرنیشنل ڈسکشن کلب کے 23ویں سالانہ اجلاس میں کہا کہ روس بنیادی تبدیلیوں کے ایک پیچیدہ راستے سے گزرا ہے، اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 35 سال قبل ریاستی نظام کا خاتمہ دیکھا، اور یہ کروڑوں افراد کے لیے ایک حقیقی المیہ تھا، جو راتوں رات خود کو ایک دوسرے ملک میں جاگتے ہوئے پائے، اور اس نے ان کی اور ان کے بچوں کی تقدیر بدل دی۔ صدر پوتن والدائی ڈسکشن کلب کے 23ویں سالانہ اجلاس کے مکمل سیشن میں شریک ہیں، جس کا عنوان ہے “مستقبل کی ذمہ داری: ممکنات کی حدود یا بلا حد امکانات؟”۔
اس کلب کی اہم کانفرنس میں الجیریا، برازیل، چین، مصر، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، ایران، جاپان، پاکستان، جنوبی افریقہ، برطانیہ اور امریکہ سمیت 40 ممالک سے 120 شرکا جمع ہوئے ہیں۔ صدر پوتن 2004 میں اس کلب کے قیام کے بعد سے اس کے اجلاسوں میں شرکت کرتے آئے ہیں۔ پہلی کانفرنس ویلیکی نووگوروڈ میں، جھیل والدائی کے قریب منعقد ہوئی تھی، جس کے نام پر اس تقریب کا نام رکھا گیا۔ 2014 سے اس کلب کے اجلاس بحیرہ اسود کے تفریحی شہر سوچی میں منعقد ہوتے رہے ہیں، تاہم اس سال والدائی اجلاس کو ماسکو ریجن منتقل کر دیا گیا ہے کیونکہ بیشتر شرکا کے لیے ماسکو پہنچنا زیادہ آسان ہے۔