ایران افزودہ یورینیم روس بھیجنے پر غور کر سکتا ہے، وال اسٹریٹ جرنل

Putin and Iranian Foreign Minister Putin and Iranian Foreign Minister

ایران افزودہ یورینیم روس بھیجنے پر غور کر سکتا ہے، وال اسٹریٹ جرنل

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا کچھ حصہ کسی تیسرے ملک، مثلاً روس، کو منتقل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بات امریکی، ایرانی اور علاقائی سفارت کاروں کے حوالے سے سامنے آئی۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے افزودگی کے عمل کو تین سال تک معطل کرنے کی ممکنہ تجویز پر بھی بات کی، جبکہ افزودہ یورینیم سے ایندھن پلیٹس تیار کرنے کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم قائم کرنے کا خیال بھی زیرِ غور لایا گیا۔ منگل کو جنیوا میں امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان عمان کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اس ماہ تصدیق کر چکے ہیں کہ اگر تہران رضامند ہو تو ماسکو ایرانی یورینیم قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ یہ پیشکش بدستور موجود ہے، تاہم یورینیم کا ذخیرہ ایران کی ملکیت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جسے تہران نے مسترد کیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یورینیم افزودگی ملک کا خودمختار حق ہے اور یہ سرگرمیاں صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا مذاکرات کے بعد کہا کہ اگرچہ رہنما اصولوں پر “افہام و تفہیم” ہوئی ہے، لیکن باقاعدہ معاہدے کی تیاری زیادہ مشکل مرحلہ ہوگا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں مذاکرات کو مثبت قدم قرار دیا، تاہم کہا کہ صدر کی جانب سے مقرر کردہ بعض “سرخ لکیروں” کو ایران تاحال تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ حالیہ ہفتوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دو طیارہ بردار بحری بیڑے تعینات کیے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اچانک لائیو فائر فوجی مشقیں کیں اور خبردار کیا کہ حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

Advertisement