ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سرکاری ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد ایران کی مسلح افواج نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر تعینات 200 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
محبی نے تسنیم نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ “آپریشن وکٹری-2 کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے، اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔” انہوں نے امریکی جانی نقصان کے تمام اعدادوشمار کو جھوٹا قرار دیا اور تجویز دی کہ واشنگٹن صحافیوں کو ان امریکی اڈوں پر مدعو کرے جنہیں ایران نے پہلے نشانہ بنایا تھا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ ترین کشیدگی 8 جولائی کو شروع ہوئی، جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکا نے پہلی بار ایران پر حملے کیے۔ امریکا کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کر دیا۔ تہران نے جواباً بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔