ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو یوکرین کے تنازع سے ہٹا کر ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کی طرف منتقل کرنا واشنگٹن کے اتحادیوں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے 15 مارچ کو اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی کے باعث مختلف خطوں کے درمیان امریکی فوجی سازوسامان کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ گیا ہے۔ کایا کالاس کے مطابق اس وقت مشرقی یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان امریکی فوجی سازوسامان اور دفاعی سپلائی حاصل کرنے کے لیے کھلی مسابقت جاری ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے اور اس کے اثرات امریکہ کے اتحادی ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کالاس نے کہا کہ امریکی پالیسی کی سمت میں یہ تبدیلی وسائل کی کمی کا سبب بن رہی ہے۔ ان کے مطابق ترجیحات میں یہ تبدیلی اس لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے کیونکہ مختلف خطے ایک ہی نوعیت کے ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت امریکہ کی توجہ تقریباً مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر مرکوز ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں یوکرین کے حوالے سے پالیسی پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اسی روز کہا کہ یوکرین سے متعلق مذاکرات میں تعطل کی ایک وجہ امریکی ترجیحات میں تبدیلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ امن عمل کی حمایت کے لیے تیار نہیں بلکہ اپنی تمام تر توانائی یوکرین کے تنازع کی حمایت میں صرف کر رہا ہے۔
14 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے امن معاہدے تک پہنچنے میں ہچکچاہٹ پر حیران ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یوکرینی صدر کے ساتھ معاہدہ کرنا روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
اس سے قبل 5 مارچ کو بھی امریکی صدر نے کہا تھا کہ زیلنسکی یوکرین بحران کے پرامن حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور ان کے بقول یوکرینی صدر تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔