آرکٹک میں روس اور چین کا مقابلہ کریں گے، یورپی یونین

Estonia’s Kaja Kallas Estonia’s Kaja Kallas

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ یونین آرکٹک میں روس اور چین کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے اور شمالی بحری راستے تک غیر محدود رسائی کی خواہاں ہے۔ انہوں نے یہ بات برطانوی اخبار دی ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

اس سے قبل روسی وزارت خارجہ کے شعبہ یورپی امور کے ڈائریکٹر اور آرکٹک کونسل میں روس کے سینئر آرکٹک عہدیدار ولادیسلاو ماسلینیکوف نے کہا تھا کہ یورپی یونین آرکٹک میں کشیدگی بڑھانے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہے اور شمالی خطے میں تعاون کو سیاسی رنگ دینا بند کرنے پر آمادہ نہیں۔

انٹرویو میں کالاس نے مؤقف اختیار کیا کہ مغرب کو روس اور چین کو آرکٹک میں بالادستی کی طرف بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ شمالی بحری راستہ، جسے روس اور چین پہلے ہی فعال طور پر استعمال کر رہے ہیں، برسلز کے لیے خاص تشویش کا باعث ہے۔ دی ٹائمز کے مطابق یہ راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان جہازوں کو نہر سوئز کے روایتی راستے کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی سہولت دیتا ہے، اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی عدم استحکام کے دوران اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

کالاس کے مطابق یورپی یونین کو کینیڈا اور امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، بظاہر اس مقصد سے کہ روس اور چین کو اس راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ممالک یہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ شمالی بحری راستہ تمام جہازوں کے لیے کھلا رہے۔

کالاس نے اس کی بھی تصدیق کی کہ یورپی کمیشن منگل کو اپنی نئی آرکٹک حکمت عملی پیش کرے گا، جبکہ اس کی آخری تازہ کاری 2021 میں ہوئی تھی۔ نئی حکمت عملی میں نئے آئس بریکرز کی تعمیر میں سرمایہ کاری، آرکٹک میں روسی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے فوجی مرکز کا قیام، اور آرکٹک میں سمندر کے اندر تیل اور گیس نکالنے پر یورپی یونین کی موجودہ پابندی میں نرمی کی شقیں شامل ہوں گی۔ یورپی کمیشن کو امید ہے کہ ناروے کے ساحل کے قریب سمندری تیل اور گیس کے ذخائر کی ترقی کے امکان سے خطے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھے گی اور یونین کے توانائی کی فراہمی کے مسائل کم کرنے میں مدد ملے گی۔

بلومبرگ نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ یورپی یونین 2027 میں آرکٹک نگرانی کا پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ توقع ہے کہ اس پروگرام میں یونین کے کوپرنیکس اور گیلیلیو سیٹلائٹ نظام استعمال کیے جائیں گے تاکہ زمین اور سمندر پر خطرات کا پتا لگایا جا سکے۔