قازقستان کا فوجی مشقوں میں ہلاکتوں کے بعد مسلح افواج میں اصلاحات کا اعلان

Kazakhstan Su-30 Kazakhstan Su-30

آستانہ (صداۓ روس)

قازقستان کے نئے وزیر دفاع ایدوس مرزاخمیٹوف نے بحیرہ کیسپین میں فوجی مشق کے دوران 14 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مسلح افواج میں جامع اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جن میں بیوروکریسی میں کمی اور فوج کی جنگی تیاری بہتر بنانا شامل ہے۔ قازقستان کی وزارت دفاع کے مطابق اجلاس میں صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی جانب سے مسلح افواج کی جامع اصلاحات سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اصلاحات میں جدید خطرات، مسلح تنازعات کے تجربات، فوجی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور فوجی خدمات کے دوران اہلکاروں کی حفاظت کو مدنظر رکھا جائے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق اصلاحات کا بنیادی مقصد فوج کی حقیقی جنگی تیاری میں اضافہ، جنگی تربیت کے معیار کو بہتر بنانا اور ہتھیاروں و فوجی سازوسامان کو جدید بنانا ہے۔ وزارت نے کہا کہ اصلاحات کے تحت انتظامی عمل کو مزید ڈیجیٹل بنایا جائے گا جبکہ غیر ضروری انتظامی کارروائیوں، رپورٹنگ اور ایسے اجلاسوں میں کمی کی جائے گی جن کا عملی فائدہ نہیں۔ وزیر دفاع ایدوس مرزاخمیٹوف نے کہا کہ مسلح افواج کی ترقی محض اعداد و شمار بہتر دکھانے یا نمائشی سرگرمیوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ہر عمل، فیصلہ اور مختص کیا جانے والا وسیلہ فوج کی جنگی تیاری بڑھانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے اور ہر فوجی کو محفوظ محسوس کرنا چاہیے۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فوج میں سینئر اہلکاروں کی جانب سے نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کو ہراساں کرنے اور غیر قانونی روایات کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر دفاع نے فوجی تربیت کے طریقہ کار پر نظرثانی کی ہدایت بھی کی۔ وزارت کے مطابق تربیت کو جدید جنگی حالات سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ، عملی تجربات اور موجودہ تنازعات کے تجزیے پر مبنی بنایا جائے گا، جبکہ بغیر پائلٹ نظام، برقی جنگی ذرائع، نگرانی، مواصلات اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے نئے طریقوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ قازقستان کی مسلح افواج میں کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ نئے وزیر دفاع نے وزارت کے حکام کو بحیرہ کیسپین کے حالیہ حادثے کے بعد وزارت دفاع کے جامع آڈٹ کے لیے قائم صدارتی کمیشن کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بحیرہ کیسپین میں حادثہ

24 ستمبر کو قازقستان کے منگستاؤ خطے میں بحیرہ کیسپین کے ساحل پر بحری مشقوں کے دوران 17 فوجی اہلکار سمندر میں بہہ گئے تھے۔ ان میں سے 14 ہلاک جبکہ تین کو بچا لیا گیا تھا۔ واقعے کے سلسلے میں فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وزارت دفاع کے پانچ عہدیداروں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں بحریہ کے چیف آف اسٹاف اور پہلے نائب کمانڈر ان چیف بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق خراب ہوتے موسمی حالات کے دوران کشتی سے اترتے وقت فوجی اہلکار سمندر میں بہہ گئے تھے۔ حادثے کے بعد قازق صدر قاسم ژومارت توکایف نے وزارت دفاع کے جامع آڈٹ کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فوجی سروس کو اہلکاروں میں خوف اور دہشت پیدا نہیں کرنی چاہیے، جبکہ فوج میں غیر ذمہ داری، غفلت اور نمائشی سرگرمیوں کو طویل عرصے سے موجود نظامی مسائل قرار دیا تھا۔ توکایف نے وسیع پیمانے پر فوجی اصلاحات کا حکم دیتے ہوئے وزیر دفاع دورین کوسانوف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ کوسانوف 2025 سے وزیر دفاع کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کے جانشین ایدوس مرزاخمیٹوف اس سے قبل قازقستان کی خصوصی آپریشنز فورسز کی کمان کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ریاستی تحفظ کی افواج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔