ٹرمپ کی درخواست: روس نے یوکرین پر حملے روک دیے، کریملن کی تصدیق

Moscow Moscow

ٹرمپ کی درخواست: روس نے یوکرین پر حملے روک دیے، کریملن کی تصدیق

ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر یوکرین کے خلاف طویل فاصلے کے حملے جزوی طور پر معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ یوکرین میں غیر معمولی سردی کے باعث کیا گیا، جس نے ملک کے توانائی نظام پر اضافی دباؤ ڈال رکھا ہے۔
پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک ہفتے پر مشتمل عارضی وقفہ یکم فروری تک نافذ رہے گا اور اس کا مقصد مذاکرات کے لیے “سازگار حالات پیدا کرنا” ہے۔ تاہم انہوں نے اس انتظام کی مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا کییف کی جانب سے کسی قسم کی باہمی پابندی یا وعدہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ذاتی طور پر صدر ولادیمیر پوتن سے درخواست کی تھی کہ شدید سرد موسم کے پیش نظر یوکرین کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کچھ عرصے کے لیے روکے جائیں، کیونکہ اس موسم میں توانائی نظام پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے یوکرین کامی کازی ڈرونز کے ذریعے روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ کییف کا دعویٰ ہے کہ اس سے روسی معیشت کو نقصان پہنچا کر ماسکو کو مذاکرات میں لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ روسی فوج کے مطابق اس کے جوابی حملوں کا مقصد یوکرین کی اسلحہ سازی، فوجی رسد اور لاجسٹکس کو کمزور کرنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں کییف سمیت یوکرین کے کئی بڑے شہروں کو شدید سردی کے دوران بجلی اور حرارت کی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ ہفتے روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان پہلی مرتبہ سہ فریقی مذاکرات منعقد ہوئے، جن کا مقصد تقریباً چار سال سے جاری تنازع کو کم کرنا تھا۔ اس سے قبل امریکہ بالواسطہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ابوظہبی میں ہونے والے ان مذاکرات میں سکیورٹی امور پر توجہ دی گئی، تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی روس کی بعض بنیادی شرائط کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ کریملن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ حساس مذاکرات کی تفصیلات پر کھل کر بات نہیں کرتا، اور یوکرین کے طرز کی “میگا فون سفارت کاری” کو غیر نتیجہ خیز قرار دیتا ہے۔ زیلنسکی کی جانب سے تازہ سمجھوتوں کو رد کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ “محاذِ جنگ کی صورتحال خود بہت کچھ بیان کر رہی ہے”، جس سے ان کا اشارہ میدانِ جنگ میں روسی پیش رفت کی طرف تھا۔

Advertisement