اسلام آباد (صدائے روس)
مسئلہ کشمیر پر مبنی آٹھ سالہ تحقیق پر مشتمل ایک اہم بین الاقوامی کتاب کی افتتاحی تقریب اور خصوصی نمائش کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں غیر ملکی وفود، سیاسی و سفارتی شخصیات، محققین، انسانی حقوق کے نمائندوں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ اس ایونٹ کو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر علمی اور دستاویزی انداز میں دوبارہ اجاگر کرنے کی ایک مؤثر اور منظم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کا انعقاد کشمیر کونسل یورپی یونین کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جبکہ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید اور ان کی ٹیم نے اس تحقیق، اشاعت اور بین الاقوامی تعارف کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کشمیر کونسل یورپی یونین گزشتہ کئی برسوں سے یورپی اداروں کے سامنے مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں پیش کرنے کے لیے سرگرم رہی ہے۔
کتاب مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی، سیاسی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں کو دستاویزی شواہد، حوالہ جات، رپورٹس، مشاہدات اور تحقیقاتی مواد کی بنیاد پر پیش کرتی ہے۔ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، محاصروں، آزادی اظہار پر پابندی، میڈیا بلیک آؤٹ اور آبادیاتی تبدیلیوں جیسے معاملات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مربوط انداز میں جمع کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کتاب مستقبل میں انسانی حقوق کے اداروں اور تحقیقاتی مراکز کے لیے ایک معتبر حوالہ بن سکتی ہے۔

تقریب اور نمائش میں شرکت کرنے والے سفارتی و سیاسی نمائندوں نے اس اقدام کو کشمیری عوام کی آواز کو انسانی حقوق اور عالمی قانون کے بیانیے کے ذریعے عالمی سطح تک پہنچانے کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ نمائش میں کشمیر سے متعلق متعدد تصویری و تحقیقی مواد، دستاویزات اور رپورٹس بھی پیش کی گئیں جس نے ایونٹ کو سفارتی رنگ عطا کیا۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایونٹ اس وقت منعقد ہوا ہے جب یورپی یونین انسانی حقوق اور عالمی پالیسی کے حوالے سے اپنی نئی ترجیحات ترتیب دے رہی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست بھی نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مسئلہ کشمیر کو ماضی میں زیادہ تر دو ریاستوں کے تنازع کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر اس کتاب نے اسے بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور آبادیاتی تبدیلی جیسے عالمی مباحث کے فریم ورک میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دستاویزی شواہد اور تحقیقی مواد عالمی اداروں، پارلیمانی کمیٹیوں، تھنک ٹینکس، انسانی حقوق کونسلوں اور پالیسی فورمز میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کو مسئلہ کشمیر کے لئے بیانیہ سازی اور سفارتی لابنگ کے ایک نئے دور کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سیاست میں بیانیہ سازی (Narrative Building) سفارتکاری کی بنیاد ہوتی ہے، اور کشمیر کے مسئلے میں یہ پہلو ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ اس تحقیق نے اس خلا کو بھرنے کی کوشش کی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں یہ مواد یورپی پارلیمنٹ میں مباحث، قراردادوں اور انسانی حقوق کی سماعتوں میں اختیار کیے جانے والے موقف پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ایونٹ کے شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ یہ تحقیق اور دستاویزی کام مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ مکالمے میں شامل کرے گا اور کشمیری عوام کی آواز کو عالمی رائے عامہ اور پالیسی حلقوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوگا۔