لاوروف کا فلسطینیوں کی “تاریخی غلطی” پر تبصرہ

Palestin Palestin

لاوروف کا فلسطینیوں کی “تاریخی غلطی” پر تبصرہ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے فلسطینیوں کی جانب سے 1947 کے اقوامِ متحدہ کے تقسیمِ منصوبے کو مسترد کرنے کو “غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نسلوں کو اسکولوں میں تاریخ کے اس پہلو سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا جاتا۔ عرب نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ 1948 کی عرب–اسرائیل جنگ ایک ضائع شدہ موقع تھی، جس کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔

لاوروف کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کیے جانے کا بیانیہ تو پڑھایا جاتا ہے، تاہم تقسیمِ منصوبے کی تاریخی تفصیلات اکثر زیرِ بحث نہیں آتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندی کی کوئی توجیہ نہیں، لیکن تنازع کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اصل تصور کے مطابق فلسطینی ریاست کے بغیر خطے میں پائیدار امن اور سکون ممکن نہیں۔

Advertisement

روسی وزیرِ خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی کے وجود سے انکار یا اجتماعی سزا جیسے رویے ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو نے اکتوبر 2023 کے حملوں کی مذمت کی، مگر اس کے جواب میں شہریوں کو ہدف بنانے کے بیانات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ لاوروف نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے، بالخصوص مقبوضہ مغربی کنارہ میں زمینوں سے متعلق حالیہ فیصلوں کے تناظر میں۔

انہوں نے غزہ کے مستقبل سے متعلق “گہری غیر یقینی” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو مکمل طور پر عسکری اور سیاسی طور پر ختم کرنے کی اسرائیلی حکمتِ عملی زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتی ہے، کیونکہ یہ تحریک فلسطینی سیاسی منظرنامے میں جڑیں رکھتی ہے، جیسے حزب اللہ کا لبنان میں کردار۔ لاوروف نے بتایا کہ روس غزہ کی تعمیرِ نو دیکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے مالی معاونت کی پیشکش کر چکا ہے، تاہم کسی بھی عارضی نقل مکانی کی صورت میں فلسطینیوں کے حقِ واپسی کی ضمانت ضروری ہوگی۔