اسلامی یونیورسٹی میں ایک بار پھر تیندوے کی موجودگی، طلبہ میں خوف و ہراس

Leopard Leopard

اسلام آباد (صداۓ روس)

اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایک مرتبہ پھر تیندوے کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جس کے بعد طلبہ اور عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر آج یونیورسٹی انتظامیہ، وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور سی ڈی اے حکام کے درمیان ایک رابطہ اجلاس ہوا، جس میں سی ڈی اے سے تعاون طلب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے بعض علاقوں میں تیندوے کے ممکنہ چھپنے کے مقامات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز جاری ہیں، تاہم طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہاسٹلز میں موجود ہے۔ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ ٹین فور میں کنالوں پر محیط رقبے پر قائم ہے۔ زیادہ تر علاقہ چار دیواری سے محفوظ ہے، تاہم کچھ ایسے مقامات بھی ہیں جہاں سے چیتا یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں پہلی بار یونیورسٹی کے احاطے میں تیندوا دیکھنے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد وائلڈ لائف بورڈ کی ٹیمیں یونیورسٹی پہنچی تھیں اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تیندوے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے بورڈ کی ٹیموں نے کیمروں کے ساتھ ساتھ جال بھی نصب کیے تھے۔ تاہم اب تک ان جالوں میں چیتا نہیں پھنس سکا، البتہ کیمروں میں اس کی آمد و رفت ریکارڈ ہوئی ہے۔ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے مطابق چیتا ٹریپس کے قریب ضرور آتا ہے لیکن ان میں داخل نہیں ہوتا، اور نگرانی جاری ہے تاکہ طلبہ اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔