وینزویلا پر امریکی جارحیت بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، میدویدیف
ماسکو (صداۓ روس)
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں میدویدیف نے کہا کہ امریکا اب اخلاقی یا قانونی طور پر روس پر کسی بھی اقدام پر تنقید کا حق کھو چکا ہے۔ دیمتری میدویدیف کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو بارہا کہہ چکے ہیں کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل اور دیگر قدرتی وسائل پر قبضہ ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس بات کو چھپاتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی اقدام غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ اور ان کی ٹیم اپنے ملک کے سیاسی اور معاشی مفادات کے دفاع میں کھلے انداز میں کام کر رہی ہے، جس میں لاطینی امریکا کو امریکا کا پچھواڑا سمجھا جاتا ہے۔
یورپی ممالک کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے میدویدیف نے کہا کہ یورپ کی جانب سے وینزویلا کے معاملے پر اختیار کیا گیا مؤقف دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مادورو کی قانونی حیثیت پر یورپی شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو خبردار کیا کہ وہ زیادہ مطمئن نہ ہوں، کیونکہ ان کی صدارتی مدت ختم ہو چکی ہے اور انہیں بھی کسی وقت عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے میدویدیف نے کہا کہ عالمی ادارے کے پاس ایسی امریکی جارحیت سے نمٹنے کے مؤثر اور عملی ذرائع موجود نہیں۔ ان کے مطابق دنیا کو ایسے مضبوط بین الاقوامی قانونی میکانزم درکار ہیں جو اربوں انسانوں کو محفوظ اور باوقار زندگی کی ضمانت دے سکیں، جبکہ اقوام متحدہ کی بنیادی دستاویزات زیادہ تر نیک نیتی کے بیانات تک محدود ہو چکی ہیں۔
میدویدیف نے خبردار کیا کہ وینزویلا کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ جو بھی ملک امریکا کو ناپسند ہو، وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا، حتیٰ کہ ڈنمارک اور اس کے زیر انتظام گرین لینڈ بھی خطرے سے باہر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادورو کی گرفتاری لاطینی امریکا میں امریکا کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ کرے گی اور بعید نہیں کہ واشنگٹن اسی طرز کا منظرنامہ یوکرین میں بھی دہرائے۔