ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاہو امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب سے یہ منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل یمن کے حوثیوں کے خلاف جاری کارروائی میں شامل ہو سکے۔ تاہم، ایک سفارتی ذریعے نے ہاریتز کو بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیلی فوجی شمولیت کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ اس سے مملکت کی عوام میں ممکنہ ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ہاریتز کے مطابق، نتن یاہو کی ان کوششوں کا مقصد ریاض کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تعلقات کی بحالی کے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، سعودی ولی عہد کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں براہِ راست شامل ہوا تو سعودی عوام میں شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس سے مملکت کی داخلی صورتحال اور علاقائی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن اسرائیل کی براہِ راست شمولیت اس کے لیے سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے، خصوصاً اس وقت جب غزہ میں جاری تنازعے کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف رائے عامہ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، نتن یاہو کی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی سے خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم سعودی قیادت اس معاملے میں احتیاط برت رہی ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے امریکہ گزشتہ کئی برسوں سے کوششیں کر رہا ہے، لیکن فلسطینی مسئلے اور علاقائی پیچیدگیوں کے باعث یہ معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔