ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پنجاب بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس کٹوتی کا نیا نظام نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کرنے والے صارفین کو ٹیکس میں 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کے ترجمان کے مطابق ای پیمنٹ یا کارڈ کے ذریعے وصول کیا جانے والا ٹیکس براہِ راست سرکاری خزانے میں منتقل ہوگا۔ نئی پالیسی کے تحت بیوٹی پارلرز، سیلونز، فیشن ڈیزائنرز، کاسمیٹک سرجری، پلاسٹک سرجری، سکن اور لیزر ٹریٹمنٹ کی خدمات پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایونٹ مینجمنٹ، ٹور آپریٹرز، جم اور لانڈری سروسز پر 8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں نقد ادائیگی پر 16 فیصد جبکہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی پر صرف 8 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا، یعنی ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والوں کو 50 فیصد ٹیکس رعایت حاصل ہوگی۔ PRA کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور شفافیت کو بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں لین دین کی ٹریس ایبلٹی اور احتساب کو بہتر بناتی ہیں اور ممکنہ کرپشن کو کم کرتی ہیں۔
پنجاب حکومت نے ٹیکس نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کو موجودہ مالی سال کے دوران اولین ترجیح قرار دیا ہے، جس کے تحت شفافیت، موثر نفاذ اور موجودہ ٹیکسوں کی بہتر وصولی پر زور دیا جا رہا ہے۔ ترجمان پنجاب ریونیو اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی ریسٹورنٹ یا فوڈ آپریٹر پکی رسید جاری نہ کرے تو اس کے خلاف متعلقہ حکام کو شکایت درج کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون ٹیکس نظام سے کرپشن کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے اور شہریوں کو ادائیگی کرتے وقت ہمیشہ رسید کا مطالبہ کرنا چاہیے۔