ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے یوکرین یا یورپی ممالک کی جانب سے ایسا کوئی ایک بیان بھی نہیں سنا جس سے ظاہر ہو کہ وہ کشیدگی بڑھانے کی پالیسی سے مذاکرات کی جانب آنے پر آمادہ ہیں۔ صحافیوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ کریملن یوکرین اور کئی یورپی حکومتوں کی اس آمادگی کو کیسے دیکھتا ہے کہ وہ کشیدگی سے نکل کر ایسے حقیقی مذاکرات کی طرف آئیں جن میں روس کے سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ پیسکوف نے جواب میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یہ خیال کہاں سے آیا، لیکن ایسی کسی آمادگی کا اظہار کرنے والا کوئی بیان ان کے سننے میں نہیں آیا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی ملاقات میں طے پانے والے معاملات پر عوامی بحث کو پیسکوف نے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے پیچیدہ مذاکراتی عمل میں ثالثی رازداری سے کی جانی چاہیے، کیونکہ کسی بھی قسم کی “میگا فون ڈپلومیسی” صرف نقصان پہنچا سکتی ہے اور جوابی تجاویز پر عوامی گفتگو اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان نئی تجاویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتے جو وٹکوف نے پوتن کے سامنے رکھی ہیں۔ پیسکوف نے یہ بھی بتایا کہ پوتن نے یوکرین تصفیے سے متعلق کوئی تحریری تجاویز وٹکوف کو نہیں دیں، اور جب ان سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیا کہ نہیں۔
پیسکوف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پوتن کی بات چیت فی الحال شیڈول میں شامل نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر یا کسی بھی فریق کی خواہش پر اسے بہت جلد ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوتن اور ٹرمپ ایک دوسرے کو مسلسل یقین دلاتے رہتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پوتن نے یوکرین پر سہ فریقی رابطوں کے نئے دور کے لیے روسی مذاکراتی ٹیم کی ترکیب کا فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ پیسکوف کے بقول یہ فیصلہ صدر کریں گے اور ابھی نہیں ہوا، اور یہ نہ بھولا جائے کہ اس کا اعلان کل ہی کیا گیا ہے۔ پوتن کی روسی مذاکرات کاروں سے ملاقات کا کوئی مخصوص منصوبہ بھی فی الحال موجود نہیں، لیکن رابطوں کے نئے دور سے پہلے ابھی وقت باقی ہے۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ امریکی انتظامیہ یوکرین پر پرامن تصفیے کے فروغ کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے، جبکہ یورپی دارالحکومت اس مقصد کے لیے کچھ نہیں کر رہے اور مزید فوجی کارروائیوں کو ہوا دینے کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ پوتن اور وٹکوف کے درمیان بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں مذاکرات ہوئے تھے۔ روسی وفد میں صدارتی معاون یوری اوشاکوف اور غیر ملکی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کے لیے روسی صدر کے خصوصی ایلچی اور روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ کیرل دمتریف بھی شامل تھے۔