پاکستان کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

Asim Iftikhar Ahmed Asim Iftikhar Ahmed

پاکستان کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کو باضابطہ طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست کی منظوری دی جائے۔ یہ مطالبہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جس میں دہشت گردی کے عالمی امن و سلامتی پر پڑنے والے خطرات پر غور کیا گیا۔

اپنے خطاب میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد تحریک طالبان پاکستان اور فتنۃ الہندوستان سے منسلک کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں اور پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی فعال حمایت کے باعث پاکستان کے اندر سنگین اور سفاک دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں۔

Advertisement

پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ محض گزشتہ ہفتے کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری خود قبول کی، جن کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر اور غیر جانبدار اقدامات ناگزیر ہیں، اور سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف دوہرے معیار کے بجائے یکساں اور فیصلہ کن پالیسی اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا دہشت گردی کے خلاف عالمی عزم کا عملی مظاہرہ ہوگا۔