پولینڈ کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے، صدر

Karol Nawrocki Karol Nawrocki

پولینڈ کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے، صدر

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پولینڈ کے صدر کارول ناوروٹسکی نے ایک انٹرویو میں تجویز دی ہے کہ ملک کو اپنا جوہری ہتھیار پروگرام تیار کرنے کی سمت میں سوچنا چاہیے، جس کی وجہ انہوں نے مبینہ “روسی خطرہ” قرار دی۔ ناٹو کے یورپی رکن ممالک طویل عرصے سے روسی جارحیت کے خدشات کو دفاعی تیاریوں میں اضافے کا جواز بناتے رہے ہیں، جبکہ ماسکو ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتا آیا ہے۔ اتوار کو پولسیٹ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ناوروٹسکی نے کہا کہ وہ “پولینڈ کے جوہری منصوبے میں شامل ہونے کے مضبوط حامی” ہیں اور اس سمت میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انہیں یقین نہیں آیا کہ وارسا واقعی اس پروگرام کو آگے بڑھائے گا یا نہیں۔
پولینڈ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) کا فریق ہے، جس کے تحت صرف پانچ ممالک — چین، فرانس، روس، امریکا اور برطانیہ — کو باضابطہ طور پر جوہری طاقت تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں صدر کے بیان نے قانونی اور سفارتی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔

ادھر جرمنی میں بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول سے متعلق بحث زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ برلن میں روس کے سفیر سرگئی نیچایف نے خبردار کیا کہ جرمن میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر بڑھتی گفتگو تشویش ناک ہے۔ جرمن جماعت اے ایف ڈی کے رکن کے گوٹشالک نے حالیہ بیان میں کہا کہ یورپی ممالک اب امریکی تحفظ پر مکمل انحصار نہیں کر سکتے۔ گزشتہ برس بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا تھا کہ جرمنی تکنیکی طور پر چند ماہ میں جوہری بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس امکان کو انہوں نے “محض مفروضہ” قرار دیا۔ روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ عالمی عدم استحکام کے ماحول میں بعض ممالک جوہری صلاحیت کو خود دفاع اور خودمختاری کی ضمانت کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے علاوہ بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا کے پاس بھی جوہری ہتھیار موجود ہیں، جبکہ اسرائیل کے بارے میں غیر اعلانیہ صلاحیتوں کا تاثر پایا جاتا ہے۔

Advertisement