عالمی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے، پرانے تنازعات دوبارہ بھڑک رہے ہیں، صدر پوتن

Putin Putin

عالمی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے، پرانے تنازعات دوبارہ بھڑک رہے ہیں، صدر پوتن

اسلام آباد (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ عالمی صورتحال بتدریج بگڑتی جا رہی ہے، جہاں پرانے تنازعات دوبارہ شدت اختیار کر رہے ہیں اور نئے خطرناک محاذ ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز 30 سے زائد ممالک کے نئے سفیروں کی جانب سے اسنادِ سفارت پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جن میں ایسے ممالک کے سفیر بھی شامل تھے جنہیں روس کی جانب سے ’غیر دوستانہ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ صدر پوتن نے عالمی سلامتی کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعاون انسانی ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امن خود بخود قائم نہیں ہو جاتا بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر تعمیر کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے ذمہ داری، مسلسل کوشش اور شعوری فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی منظرنامے پر صورتحال واضح طور پر خراب ہو رہی ہے، جہاں پرانے تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں اور نئے سنگین تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں سفارت کاری اور اتفاقِ رائے کی تلاش کی جگہ یکطرفہ اور نہایت خطرناک اقدامات لے رہے ہیں، جبکہ کئی ممالک ’طاقت ہی حق ہے‘ کے اصول کے تحت دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

صدر پوتن کے مطابق دنیا کے درجنوں ممالک اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی، بدامنی اور قانون شکنی کا شکار ہیں اور ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے نہ تو مناسب وسائل ہیں اور نہ ہی طاقت۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی جائے اور ایک زیادہ منصفانہ، کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کی حمایت کی جائے۔ اپنے خطاب میں روسی صدر نے یوکرین کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے اسے سلامتی کے ناقابلِ تقسیم اصول کی خلاف ورزی کی واضح مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کا بحران روس کے جائز مفادات کو نظر انداز کرنے، اس کی سلامتی کو مسلسل خطرے میں ڈالنے اور نیٹو کی روسی سرحدوں کی جانب توسیع کا براہِ راست نتیجہ ہے، جو ماضی میں کیے گئے عوامی وعدوں کے برخلاف تھا۔ صدر پوتن نے اس موقع پر یوکرین میں دیرپا اور پائیدار امن کے قیام کے لیے روس کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

Advertisement