اپیک اجلاس میں پوتن، شی اور ٹرمپ کی ممکنہ ملاقات

Putin, Xi and Trump Putin, Xi and Trump

ماسکو (صداۓ روس)

کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین میں ہونے والے ایشیا پیسفک اقتصادی تعاون (اپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک “تاریخی” سہ فریقی ملاقات کر سکتے ہیں۔ اپیک اجلاس 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزین میں شیڈول ہے۔ روسی نشریاتی ادارے ویستی سے گفتگو کرتے ہوئے اوشاکوف نے بدھ کو بتایا کہ بیجنگ نے ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب اس کے لیے تیار ہیں، تاہم بہت کچھ، بلکہ سب کچھ، اجلاس کے چینی میزبانوں پر منحصر ہے۔ کریملن کے مطابق سہ فریقی ملاقات کے امکان پر پوتن اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی ملاقات میں بھی بات چیت ہوئی۔ اوشاکوف نے اس ممکنہ اجلاس کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں رہنماؤں کی اس انداز میں پہلی ملاقات ہوگی۔

پوتن اور ٹرمپ کی آخری بالمشافہ ملاقات اگست 2025 میں الاسکا کے شہر اینکریج میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ہوئی تھی، جبکہ دونوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے برقرار ہیں، جن میں آخری رابطہ 9 اکتوبر کو ہوا۔ پوتن اور شی جن پنگ کے درمیان بھی باقاعدگی سے بات چیت ہوتی رہی ہے، جن میں اگست میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات شامل ہے۔ دونوں رہنما اس سے قبل مئی میں پوتن کے سرکاری دورۂ بیجنگ کے دوران بھی مل چکے ہیں۔ ٹرمپ اور شی جن پنگ رواں سال اب تک دو بار مل چکے ہیں، پہلی بار مئی میں بیجنگ میں اور دوسری بار گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں۔

ٹرمپ پہلے بھی سہ فریقی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں اور ان کے مطابق جوہری ہتھیاروں میں کمی ان موضوعات میں شامل ہو سکتی ہے جن پر بات ہو۔ جب اوشاکوف سے پوچھا گیا کہ کیا یہ مذاکرات یوکرین تنازع کے حل کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایک ملاقات کافی نہیں ہوگی، اور چاہے ملاقات ایک، دو یا پانچ گھنٹے جاری رہے، تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

اس سوال پر کہ کیا یہ اجلاس “نیا یالٹا” ثابت ہو سکتا ہے، اوشاکوف نے کہا کہ ان کے خیال میں اگر ملاقات ہوئی تو تبصروں اور تجزیوں کا طوفان آ جائے گا۔ واضح رہے کہ 1945 کی یالٹا کانفرنس میں سوویت رہنما جوزف اسٹالن، امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ اور برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل نے دوسری جنگِ عظیم کے آخری مراحل اور جنگ کے بعد کے عالمی نظام پر تبادلہ خیال کیا تھا۔