ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ بھر کے فوجی اڈوں سے خاموشی کے ساتھ اپنے اہلکاروں کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے، جبکہ واشنگٹن خطے کے کئی سفارتی مشنز کے عملے کو بھی وہاں سے نکلنے کا حکم دے رہا ہے۔ رپورٹ بدھ کو دو امریکی عہدیداروں اور دو باخبر افراد کے حوالے سے سامنے آئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، اور یہ تیاریاں فروری میں ہونے والے ابتدائی امریکی۔اسرائیلی حملوں سے قبل پینٹاگون اور محکمہ خارجہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جن اڈوں سے اہلکار منتقل کیے جا رہے ہیں ان میں اردن، قطر اور کویت میں تعینات امریکی فوجی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن خطے کے اپنے اڈوں پر محدود موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، جس میں فضائی دفاع اور سکیورٹی کے ذمہ دار اہلکار شامل ہوں گے۔
28 فروری کے حملے سے پہلے پینٹاگون نے ایرانی جوابی کارروائی سے بچاؤ کے لیے ممکنہ طور پر غیر محفوظ اڈوں سے بڑی تعداد میں فوجی ہٹا لیے تھے۔ اس وقت تہران نے واشنگٹن پر الزام لگایا تھا کہ وہ خلیجی عوام کو “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ ہزاروں امریکی اہلکاروں نے شہری ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں پناہ لی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز نے فوجی نقل و حرکت پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کو “مشن کی تیاری بہتر بنانے” کے لیے باقاعدگی سے نئی جگہوں پر تعینات کیا جاتا ہے اور وہ امریکی اہلکاروں اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جس کی وجہ یمن کی حوثی تحریک کے شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملے بتائی گئی ہے۔ رائٹرز نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن خلیج بھر میں مزید سفارتی انخلا کی تیاری کر رہا ہے، تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے مزید انخلا سے متعلق رپورٹس کو “غلط” قرار دیا۔
این بی سی کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف نئے حملوں کے متبادل پیش کیے ہیں، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات، زیرِ زمین مراکز اور اسٹریٹجک جزائر پر حملے شامل ہیں۔ ان جزائر میں تیل کی برآمد کا اہم مرکز خارگ جزیرہ اور آبنائے ہرمز میں واقع قشم شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے کچھ مشیر، جن میں وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ بھی شامل ہیں، تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر نے واضح مقصد کے بغیر ایک اور بڑی مہم شروع کرنے سے خبردار کیا ہے۔
ہیگسیتھ نے پیر کو اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بند کمرے میں بات چیت کی۔ یہ ملاقات اسرائیل کے 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے چند روز قبل ہوئی۔ نیتن یاہو غزہ اور ایران کی جنگوں سے نمٹنے پر بڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود ایک اور مدت کے خواہاں ہیں، اور ٹرمپ ان کی دوبارہ انتخابی کوشش کی حمایت کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے اس ماہ کے آغاز میں وعدہ کیا تھا کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں فوجی طاقت کا آپشن موجود رہے گا۔ نیتن یاہو نے بھی اسرائیلی انتخابات سے پہلے نئے حملوں کو خارج از امکان قرار دیا ہے، لیکن اتوار کو انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل امریکی شرکت کے بغیر بھی ایران پر حملے کے لیے تیار ہے۔
ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی۔اسرائیلی جنگ اب آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیاں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔ تہران نے پیشکش کی ہے کہ اگر واشنگٹن اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، تیل پر پابندیوں میں نرمی کرے اور وسیع تر جنگ بندی پر راضی ہو تو وہ سات دن کے اندر اس اہم آبی گزرگاہ میں معمول کی نقل و حمل بحال کر دے گا۔ ٹرمپ اس ایرانی تجویز کو “ناقابلِ قبول” قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں، جبکہ ان کی انتظامیہ اس بات پر غور جاری رکھے ہوئے ہے کہ آیا مزید فوجی دباؤ تہران کو ان کی شرائط ماننے پر مجبور کر سکتا ہے۔