صدر پوتن -زیلنسکی ملاقات صرف ماسکو میں ممکن ، کریملن
ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر صدر پوتن اور یوکرینی رہنما ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے اس وقت صرف ماسکو ہی کو مقام کے طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ اس معاملے پر قیاس آرائیاں کرنا مناسب نہیں۔ کریملن کے مطابق صدر پوتن اور زیلنسکی کے درمیان سربراہی ملاقات کے امکان پر متعدد بار بات چیت ہو چکی ہے، جن میں صدر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطے بھی شامل ہیں۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس مرحلے پر صرف ماسکو کا نام ہی زیرِ بحث ہے۔ اس سے ایک روز قبل صدر پوتن کے قریبی معاون یوری اوشاکوف نے بھی اس مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر زیلنسکی واقعی ملاقات کے لیے تیار ہیں تو روس انہیں ماسکو آنے کی دعوت دینے کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے مطابق روسی دارالحکومت میں ملاقات کی صورت میں یوکرینی وفد کو مکمل سیکیورٹی اور مناسب کام کرنے کا ماحول فراہم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایسی ملاقات بھرپور تیاری کے ساتھ اور ٹھوس معاہدوں پر دستخط کے واضح مقصد کے تحت ہونی چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل ابوظبی میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان پہلی براہِ راست سہ فریقی مذاکرات ہوئے تھے۔ امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کے مطابق ان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان کئی مثبت امور پر بات چیت ہوئی۔ اگلا دورِ مذاکرات اتوار کو متوقع ہے، تاہم امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق اس نشست میں وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شریک نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب یہ بھی یاد رہے کہ زیلنسکی نے دو ہزار بائیس میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے صدر پوتن سے مذاکرات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ پابندی اس وقت لگائی گئی تھی جب یوکرین کے چار سابقہ خطوں میں ہونے والے ریفرنڈمز کے نتیجے میں وہاں کی اکثریت نے روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ماسکو مسلسل اس نکتے کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ زیلنسکی اگرچہ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، مگر انہوں نے اب تک اس پابندی کو ختم نہیں کیا۔