ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ترجمان کیٹی زکریا کی قانونی اسناد پر سوالات اٹھنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے ان کا دفاع کیا ہے، جبکہ کیلیفورنیا کی ایک نگران تنظیم نے ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے زکریا کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انہیں وکیل قرار دیا تھا، جبکہ زکریا خود بھی خود کو وکیل کہتی رہی ہیں۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے امریکا کی کس ریاست میں وکالت کا لازمی امتحان پاس کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے استفسار پر زکریا نے جواب دیا کہ جب وہ چین منتقل ہوئیں۔ اس جواب کے بعد ان کی قانونی اہلیت پر بحث چھڑ گئی۔ ایک وائٹ ہاؤس اہلکار کے مطابق وہ گریجویشن کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ چین گئی تھیں، جو ایک امریکی نجی ایکویٹی فرم میں ملازمت کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔
انڈیپنڈنٹ نیوز لیٹر پاپولر انفو کے جج لیگم کی رپورٹ کے مطابق، پچاس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کے بار ایسوسی ایشن ڈیٹا بیس کے جائزے میں یہ نہیں ملا کہ زکریا نے کہیں بھی یہ امتحان پاس کیا ہو۔ چین میں بھی غیر ملکیوں کو وکالت کی اجازت نہیں، اور وہاں کا بار امتحان صرف چینی شہریوں کے لیے ہے۔ ان کی لنکڈاِن پروفائل کے مطابق وہ 2011 سے 2013 تک بیجنگ میں چین کی سب سے بڑی قانونی فرموں میں سے ایک ژونگ لن لا فرم میں ایسوسی ایٹ رہیں۔
بعد ازاں زکریا نے تسلیم کیا کہ انہوں نے بار امتحان کبھی پاس نہیں کیا۔ قدامت پسند مبصر جیک پوسوبیک کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ پیپرڈائن یونیورسٹی کے لا اسکول سے 2011 میں ڈگری لینے کے بعد انہوں نے کیلیفورنیا بار امتحان دیا تھا لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے صحافی کا بلند آواز میں پوچھا گیا سوال غلط سنا، جس کے باعث انہوں نے چین کا ذکر کیا۔
کیلیفورنیا کی ایک نگران تنظیم نے بدھ کو ان کے ریزیومے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہوں نے بار بار خود کو عوام کے سامنے ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جسے لائسنس کے بغیر وکالت کا حق حاصل ہے، جسے کیلیفورنیا کا قانون جرم قرار دیتا ہے۔ اسٹیٹ بار آف کیلیفورنیا کے ترجمان کے مطابق ان کے پاس زکریا یا ان کے پہلے نام کیٹ شیرون بلیک کے تحت لائسنس یافتہ ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے زکریا کو پریس سیکریٹری کے عہدے کے لیے منفرد طور پر اہل قرار دیا ہے۔