ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
فیفا نے دنیا بھر میں فٹبال کی ترقی کے لیے 6 ارب 35 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 211 رکن ممالک کو فی کس ڈھائی کروڑ ڈالر تک فنڈز فراہم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ریکارڈ تجارتی کامیابی کے بعد ادارے نے فٹبال کی ترقی کے لیے فنڈز میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے، اور 2027 سے 2030 کے دوران مجوزہ فنڈنگ کو دگنی سے بھی زیادہ کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت پاکستان سمیت تمام 211 رکن ممالک کو اضافی فنڈز مل سکیں گے۔ نئے فنڈنگ منصوبے کی حتمی منظوری مارچ 2027 میں ہونے والی فیفا کانگریس سے مشروط ہوگی، جبکہ فیفا کونسل دسمبر 2026 کے اجلاس میں اس کی تفصیلات کو حتمی شکل دے گی۔ فنڈز کی تقسیم میں خواتین اور نوجوانوں کے فٹبال اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔ فیفا نے ہنگامی حالات کے لیے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے ذخائر برقرار رکھنے کی تجویز بھی دی ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے متنازع فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبے پر غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی اور بتایا کہ یہ منصوبہ مستقل طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کسی بھی شکل میں دوبارہ پیش نہیں کیا جائے گا اور فیفا کے فنڈز اس کے 211 رکن ممالک کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال میں فی رکن ملک فنڈنگ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، اور فٹبال سب کے لیے اور ہر جگہ ہے۔
انفینٹینو نے یہ بھی بتایا کہ فیفا کونسل نے تنظیمی گورننس میں ممکنہ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل نے فیفا پیس پرائز کا جائزہ لینے کی ذمہ داری متعلقہ کمیٹی کو سونپ دی ہے، اور اس بارے میں فیصلہ دسمبر میں ہونے والے کونسل اجلاس میں کیا جائے گا۔
فیفا کونسل نے کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ امریکی فٹبالر فولارین بالوگن کی ایک میچ کی معطلی مشروط طور پر مؤخر کیے جانے کے بعد تادیبی قوانین کا جائزہ لیا جائے گا، اور فیفا کی قانونی کمیٹی دسمبر کے کونسل اجلاس میں تادیبی طریقہ کار سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔