چاند کی مٹی میں خوراک اگانا ممکن ہو سکتا ہے، سائنسدانوں کا دعویٰ
سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مستقبل میں چاند پر خوراک اگانا ممکن ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن کے محققین نے چاند کی مصنوعی مٹی میں کامیابی کے ساتھ چنے اُگا کر حاصل کیے ہیں، جو اس نوعیت کا پہلا تجربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سائنسی ویب پورٹل کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے چاند کی مٹی کی نقل تیار کر کے اس میں چنے کے پودے اُگانے کا تجربہ کیا۔ یہ تحقیق مستقبل کے قمری مشنز، خصوصاً آرٹیمس ٹو پروگرام، کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے یہ سوال حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ خلا باز چاند پر کیا کھائیں گے۔ اس منصوبے کی سربراہ اور یونیورسٹی آف ٹیکساس کے انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کی محقق سارہ سانتوس نے بتایا کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ چاند پر زرعی پیداوار کے امکانات کس حد تک موجود ہیں۔
تجربے کے دوران سائنسدانوں نے ایسی مصنوعی قمری مٹی استعمال کی جو ان نمونوں کی ساخت سے ملتی جلتی ہے جو اپولو مشن کے خلا باز زمین پر لے کر آئے تھے۔ پودوں کی نشوونما کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے مقصد سے محققین نے اس مٹی میں ورمی کمپوسٹ بھی شامل کیا، جو کیچوؤں کی سرگرمی سے پیدا ہونے والا غذائیت سے بھرپور مادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق کیچوے نامیاتی فضلہ جیسے خوراک کے بچے ہوئے حصوں یا کپاس کے ٹیکسٹائل کو توڑ کر ورمی کمپوسٹ تیار کرتے ہیں، جو غذائی اجزاء، معدنیات اور مفید جراثیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ فضلہ مستقبل کے خلائی مشنز کے دوران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ پودے لگانے سے پہلے چنے کے بیجوں کو اربسکیولر مائکورائزل فنگس سے بھی علاج کیا گیا۔ یہ فنگس پودوں کے ساتھ باہمی تعلق قائم کر کے انہیں ضروری غذائی اجزاء جذب کرنے میں مدد دیتی ہے اور بھاری دھاتوں کے اثرات کو کم کرتی ہے۔
محققین نے چاند کی مٹی اور ورمی کمپوسٹ کو مختلف تناسب میں ملا کر اس میں پودے لگائے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب مٹی میں 75 فیصد تک قمری مٹی شامل کی گئی تو چنے کے پودے کامیابی سے بڑھتے رہے، تاہم اس سے زیادہ مقدار ہونے پر پودوں پر دباؤ بڑھ گیا اور وہ وقت سے پہلے مرنے لگے۔ سائنسدانوں نے یہ بھی پایا کہ جن پودوں کو فنگس کے ساتھ تیار کیا گیا تھا وہ زیادہ دیر تک زندہ رہے، جس سے پودوں کی صحت میں مائکورائزا فنگس کے اہم کردار کی تصدیق ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ فنگس مصنوعی قمری مٹی میں بھی زندہ رہ سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے صرف ایک مرتبہ شامل کرنا کافی ہو سکتا ہے۔ تاہم کامیاب فصل حاصل ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ چنے انسانی خوراک کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔ محققین کو ان کی غذائی قدر کا جائزہ لینے اور یہ جانچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ان میں زہریلی بھاری دھاتیں تو موجود نہیں۔