روس- امریکا کا یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس سے بات کرنے سے انکار
ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے واضح کیا ہے کہ روس اور امریکا، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا بات چیت میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابو ظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوا ہے۔ پیسکوف نے روسیا-1 کے صحافی پاویل زاروبن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ یورپی یونین کی قیادت نااہل ہے اور اس کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات کے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے بقول، “کاجا کالاس کے ساتھ کسی چیز پر بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ نہ ہم کبھی ان سے بات کریں گے اور نہ ہی امریکی، یہ بات بالکل واضح ہے۔ ہمیں صرف یہ انتظار کرنا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے رخصت ہوں۔” کریملن ترجمان نے الزام لگایا کہ برسلز ایسے “نیم خواندہ اور نااہل افسران” سے بھرا ہوا ہے جو نہ مستقبل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی آج کی حقیقتوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یورپی یونین کے بعض حکام نے شکایت کی ہے کہ یوکرین کو فوجی اور مالی امداد فراہم کرنے کے باوجود بلاک کو امن مذاکرات سے بڑی حد تک باہر رکھا جا رہا ہے۔ کاجا کالاس، جو اس سے قبل ایسٹونیا کی وزیرِ اعظم رہ چکی ہیں، روس کے خلاف سخت پابندیوں اور یوکرین کے لیے مزید فوجی امداد کی مسلسل حامی رہی ہیں۔ انہوں نے ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ روڈمیپ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ علاقائی رعایتیں دینا “صدر پوتن کا بچھایا ہوا جال” ہو گا۔ حالیہ دنوں میں کالاس نے گرین لینڈ کو ضم کرنے سے متعلق ٹرمپ کے بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یورپی یونین کی روس کے خلاف سخت پالیسی پر بعض رکن ممالک، جن میں ہنگری اور سلوواکیہ شامل ہیں، پہلے ہی تنقید کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سلوواکیہ کے وزیرِ اعظم رابرٹ فیکو نے یورپی یونین کو “مساج پارلر” سے تشبیہ دیتے ہوئے کاجا کالاس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔